عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کیلئے درخواست دائر
سابق وزیراعظم عمران خان
توشہ خانہ فوجداری کیس میں عمران خان کی شفاء ہسپتال منتقلی کی متفرق درخواست دائر کی گئی/ فائل فوٹو
اسلام آباد (سنو نیوز): بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور سابق وزیراعظم عمران خان کو علاج کی غرض سے شفاء انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد منتقل کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں متفرق درخواست دائر کر دی گئی۔

 درخواست توشہ خانہ فوجداری کیس کے تناظر میں سپریم کورٹ رولز 2025 کے رول 35(6) کے تحت جمع کرائی گئی۔ درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کیلئے انہیں الشفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔

متفرق درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو ان کے ذاتی معالجین تک رسائی دی جائے اور علاج کے دوران اہلخانہ کی موجودگی کی بھی اجازت فراہم کی جائے۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ مکمل اور شفاف طبی معائنہ ان کی صحت کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات کو دور کرنے کیلئے ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران رہائی فورس لاکھوں افراد پر مشتمل ہوگی: سہیل آفریدی

 واضح رہے کہ سپریم کورٹ کا دو رکنی بینچ توشہ خانہ فوجداری کیس کی سماعت ہائیکورٹ کے حتمی فیصلے تک ملتوی کر چکا ہے۔ تاہم تازہ درخواست میں صرف طبی بنیادوں پر ہسپتال منتقلی اور متعلقہ سہولیات کی فراہمی کی استدعا کی گئی ہے۔

دوسری جابب عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے کیسز لگوانے اسلام آباد ہائی کورٹ آئے ہیں، 13 ماہ سے ہم آرہے ہیں، یہ کرسی عوام کو انصاف دینے کے لیے ہے، دنیا بھر میں عدالتیں ایسی نہیں ہوتی، بانی پی ٹی آئی کی صحت اور کیسز ہمارا مسئلہ ہے، محسن نقوی نے کہا کہ پارٹی ہمارے ساتھ ہے۔

علیمہ خان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت پر فیصلہ کرنا پارٹی کا نہیں ہمارا مینڈیٹ ہے، آئندہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق کوئی بھی فیصلہ ہماری اجازت کے بغیر نہیں ہوگا، عمران خان کی صحت سے متعلق ہمارے ساتھ حسین اخونزادہ رابطے میں تھا، ہم نے اس سے کہا کہ ٹی وی پر شفاء ہسپتال کیوں چل رہا ہم الشفاء ہسپتال کا کہہ رہے ہیں، اخونذادہ نے کہا کہ محسن نقوی نے گارنٹی دی ہے کہ الشفاء ہسپتال جائیں گئے اور ڈاکٹرز اور اہلہ خانہ بھی ساتھ ہوں گے، ہم نے ڈاکٹر عاصم اور عظمی خان کا نام دیا،ہمیں پیغام ملا کے بہنیں نہیں جاسکتی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ڈاکٹر برکی کا نام دیا پھر کہا وہ بھی قبول نہیں، ہمیں کہا گیا ڈاکٹر عاصم بھی قبول نہیں اس کے بعد پارٹی سے کوئی رابطہ نہیں ہوا، ہمیں معلومات تب ملی جب رات کو ڈاکٹر عاصم سے بات ہوئی، ہمیں بتایا نہیں گیا کچھ، سپریم کورٹ میں کیس تھا، ہمارے ڈاکٹرز نے الشفاء کا مشورہ دیا تو پارٹی کس طرح کوئی فیصلہ کر سکتی ہے، ہمیں بے خبر رکھا گیا کہ جیل میں علاج کیا جا رہا ہے، محسن نقوی کہہ رہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا علاج کرایا گیا ہے، کوئی آکر تردید کیوں نہیں کرتا کونسا علاج ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئی پارٹی والا آکر بتاتا کیوں نہیں کہ محسن نقوی نے کیا یقین دہانی کرائی تھی، ڈاکٹرز صرف معائنے کے لیے گئے تھے، بانی پی ٹی آئی نے پیغام بھیجا ہے کہ میرے ڈاکٹرز سے میڈیکل رپورٹس چیک کرائیں، پارٹی والے بتائیں وہ کیا کر رہے ہیں، جب ہم ہسپتال کا مطالبہ کر رہے تھے تو انہوں نے جیل بھجوا دیا، پارٹی کا کوئی حق نہیں بنتا کہ وہ عمران خان کی صحت پر ہماری اجازت کے بغیر کوئی بات کرے، پارٹی کے اندر کوئی مداخلت نہیں، ہمارے بھائی کی صحت کا سوال ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے وکلاء کو ٹکٹ دیے، بانی پی ٹی آئی کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ جاکر میرے کیسز لگوائیں، آج سئینر وکلاء اور ٹکٹ ہولڈر کہاں ہے ؟ حامد خان، علی ظفر ، لطیف کھوسہ کہاں ہے ؟ بیرسٹر گوہر جو صحت کی اتنی فکر کر رہے تھے سب معاملات دیکھ رہے تھے وہ کہاں ہے، محسن نقوی نے جو بات ٹی وی پر کہی اس کی ویریفیکشن ہمیں بھی چاہیے، محسن نقوی نے کہا کہ میں علاج میں رکاوٹ تھی کسی نے آکر اس بات کی وضاحت نہیں کی، پمز کے علاوہ کوئی علاج نہیں ہوا، ہم اب بھی مطالبہ کر رہے ہیں کہ الشفاء ہسپتال میں علاج کرایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے پارٹی کو روکا نہیں ہمارے ساتھ مشاورت یا اجازت کے بغیر صحت کے معاملے پر کچھ نہ کریں، ہم نے پارٹی کو بتا دیا تھا کہ آنکھ کا معاملہ بہت سنجیدہ ہے، ہمیں جیل میں جانے کا نہیں معلوم تھا نہ ہمیں بتایا گیا، پارٹی نے صحت سے متعلق جو فیصلہ کیا وہ ہم سے چھپایا گیا، پارٹی جائے اور بانی پی ٹی آئی کے علاج کے لیے لڑے، عمران خان کا ایکسپرٹ سے علاج کرایا جائے، ہمیں محسن نقوی سے معلوم ہوا کہ بیرسٹر گوہر بھی جیل جا رہے تھے بیرسٹر گوہر نے ہمیں نہیں بتایا، ہمیں بتا دیں ہمیں محسن نقوی سے معلومات ملے گی یا پارٹی سے۔

 

ضرور پڑھیں