مائیکرو چپ ختم: قومی شناختی کارڈ میں اہم تبدیلیاں
قومی شناختی کارڈ
حکومتِ پاکستان نے قومی شناختی کارڈ اور پاکستان اوریجن کارڈ کے قواعد میں اہم ترامیم کی منظوری دی/ فائل فوٹو
اسلام آباد (ویب ڈیسک): حکومتِ پاکستان نے ایک قوم، ایک شناخت کے تصور کو عملی شکل دیتے ہوئے قومی شناختی کارڈ اور پاکستان اوریجن کارڈ کے قواعد میں اہم ترامیم کی منظوری دے دی جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق ان اصلاحات کا بنیادی مقصد قومی شناختی نظام کو جدید ڈیجیٹل تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ ترامیم کے تحت کیو آر کوڈ کو بطور باقاعدہ سیکیورٹی اور تصدیقی فیچر قانونی حیثیت دے دی گئی ہے۔ قواعد میں کیو آر کوڈ کو ایک محفوظ، مشین سے پڑھے جانے والے دو جہتی بارکوڈ کے طور پر شامل کیا گیا ہے، جو معلومات کو انکوڈ کر کے محفوظ رکھتا ہے اور اسکین کیے جانے پر فوری شناختی تصدیق فراہم کرتا ہے۔

مزید برآں، قواعد میں کیو آر کوڈ یا کوئی دیگر تکنیکی فیچر شامل کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے جو مائیکروچپ کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا۔ اس اقدام سے نادرا کو جدید تصدیقی ٹیکنالوجیز اختیار کرنے میں سہولت ملے گی اور بار بار قواعد میں ترمیم کی ضرورت نہیں رہے گی۔

حکام کے مطابق کیو آر سے فعال نظام آف لائن اور آن لائن دونوں ماحول میں فوری اور محفوظ تصدیق کو ممکن بنائے گا۔ اس سے نیشنل ڈیٹا ایکسچینج لیئر کے ذریعے بین الادارہ جاتی رابطہ مضبوط ہوگا، جبکہ سرکاری و نجی اداروں میں شناختی تصدیق کی رفتار اور شفافیت میں اضافہ ہوگا۔ دستی کارروائیوں میں کمی اور جعل سازی کے خطرات کم ہونے کی توقع بھی ظاہر کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بینظیراِنکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ہونیوالوں کیلئے اہم خبر

قواعد میں کارڈ کی معطلی کے اثرات کو بھی مزید واضح اور سخت کیا گیا ہے۔ اب کسی بھی شناختی کارڈ کی معطلی کی صورت میں اس سے منسلک تمام تصدیقی اور توثیقی خدمات فوری طور پر معطل تصور ہوں گی، تاکہ معطل شدہ کارڈ کسی ادارہ جاتی یا ڈیجیٹل نظام میں استعمال نہ ہو سکے۔

بائیومیٹرک نظام کو بھی وسعت دیتے ہوئے فنگر پرنٹس کے ساتھ آئرس اسکین کو باقاعدہ طور پر قواعد میں شامل کیا گیا ہے، جو ملٹی موڈل بائیومیٹرک شناختی نظام کی عکاسی کرتا ہے۔

شہری سہولت کے لیے 60 سال یا اس سے زائد عمر کے مقیم اور غیر مقیم پاکستانیوں کو خصوصی نشان کے ساتھ عمر بھر کے لیے مؤثر اسمارٹ قومی شناختی کارڈ جاری کرنے کی سہولت بھی متعارف کرائی گئی ہے۔ اس اقدام سے بزرگ شہریوں کو بار بار تجدید کے عمل سے نجات ملے گی۔

اسی طرح آزاد جموں و کشمیر کے رہائشیوں کے کارڈ پر Resident of Azad Jammu and Kashmir کی عبارت درج کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ جغرافیائی شناخت کو یکساں بنایا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کے ذریعے پاکستان کا قومی شناختی نظام قانونی اور تکنیکی بنیادوں پر مزید مضبوط ہوگا اور ملک مربوط ڈیجیٹل طرزِ حکمرانی کی جانب ایک اہم قدم آگے بڑھے گا۔
 

ضرور پڑھیں