سینیٹ اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک کا مہینہ توبہ کرنے کا ہے، بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھ کا معاملہ زیر بحث رہا ہے ہمیں تشویش تھی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے پارلیمنٹ ہاؤس میں احتجاجی دھرنا دیا جس پر پارلیمنٹ ہاؤس کے دروازے تالے لگا کر بند کردیے گئے ، مثبت احتجاج کرنے کی روایت ڈالنے دیں ، پارلیمنٹ کو تالے لگانا اور پارلیمنٹرینز کو بند کردیا گیا کیا یہ پارلیمنٹ کی توہین نہیں ہے؟
قائد حزب اختلاف نے کہا کہ ہم عمران خان کے علاج کا مطالبہ کررہے ہیں، عمران خان کو ایک اور انجکشن لگنا ہے، عمران خان پر جعلی پرچے ہوئے ہیں، ان سے بہنوں کی ملاقات نہیں کرائی جارہی، ان سے ملاقات کے لیے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: خواتین ماہانہ 30 ہزار روپے وظیفہ کیسے حاصل کر سکتی ہیں؟
علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ جیل میں عمران خان نے قرآن شریف کا ترجمہ اور تفاسیر پڑھی ہیں، آپ عمران خان سے معاملات ٹھیک کریں میں وعدہ کرتا ہوں آپ کی حکومت نہیں گرانے دیں گے۔
راجا ناصر عباس کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے حکومتی سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا کہ ایک شخص ضد پر کھڑا ہو، کوئی بات ماننے کےلیے تیار ہی نہ ہو تو اس کا کیا کیا جائے ، ہم اس ملک کی بہتری کے لیے آپ کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار ہیں لیکن آپ سیاسی عمل کا حصہ بننے سے مسلسل انکاری ہیں۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ جو آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں آپ ان سے مذاکرات نہیں کرتے، جو مذاکرات نہیں کرنا چاہتے آپ نے ان کو درخواستیں دی ہوئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کے علاج کا معاملہ عدالت میں ہے، سپریم کورٹ نے نوٹس لیا ہے، فرینڈ آف کورٹ مقرر کیا ہے، حکومت نے ان کا علاج کرایا ہے۔