اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے 25 فروری کو ہونے والے صوبائی کابینہ اجلاس کا ایجنڈا تیار کر لیا ہے جس میں رویت ہلال کمیٹی کے اخراجات کی منظوری بھی شامل ہے۔ کابینہ اجلاس میں دیگر انتظامی و مالی امور کے ساتھ اس مد میں ادا کی جانے والی رقم کی توثیق کی جائے گی تاکہ ادائیگی کا عمل قانونی اور ضابطہ کار کے مطابق مکمل ہو سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک کے چاند کی رویت کے لیے ملک کے مختلف مقامات پر اجلاس منعقد کیے گئے، جن میں کمیٹی کے اراکین، ماہرین فلکیات اور متعلقہ انتظامی حکام نے شرکت کی۔ چاند دیکھنے کے عمل کے دوران سفری اخراجات، رہائش، اجلاس کے انتظامات اور دیگر انتظامی امور پر یہ رقم خرچ کی گئی۔ حکام کے مطابق یہ اخراجات ہر سال چاند رویت کے عمل کے دوران کیے جاتے ہیں، تاہم اس بار مجموعی لاگت 20 لاکھ روپے تک پہنچ گئی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب کا کسانوں کو مفت سرکاری زمین فراہم کرنے کا اعلان
یاد رہے کہ رمضان المبارک کے آغاز کا فیصلہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کے بعد کیا جاتا ہے، جس کی بنیاد ملک بھر سے موصول ہونے والی شہادتوں اور فلکیاتی معلومات پر رکھی جاتی ہے۔ اس حوالے سے کمیٹی کا کردار نہایت اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ اسی اعلان کے مطابق پورے ملک میں روزوں کا آغاز کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب بعض حلقوں کی جانب سے اخراجات کے حجم پر سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ چاند رویت کے عمل میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔ تاہم حکام کا مؤقف ہے کہ شفاف اور جامع طریقہ کار کو یقینی بنانے کے لیے ضروری انتظامات ناگزیر ہوتے ہیں۔
اب صوبائی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں اس رقم کی باقاعدہ منظوری کے بعد ادائیگی کا عمل مکمل کیا جائے گا۔