پاکستان کی سرحد پار دہشت گرد ٹھکانوں پر انٹیلیجنس بیسڈ کارروائیاں
Pakistan retaliatory strikes Afghanistan border
فائل فوٹو
اسلام آباد: (ویب ڈیسک) حالیہ خودکش دھماکوں کے تناظر میں پاکستان نے واضح کیا ہے کہ ملک میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے افغانستان میں موجود عناصر کا ہاتھ ہے۔

حکومت کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں ہونے والے حملوں سمیت آج بنوں میں ماہِ رمضان کے دوران پیش آنے والا واقعہ افغانستان میں قائم قیادت اور ہینڈلرز کی ایما پر کیا گیا۔

پریس ریلیز میں کہا گیا کہ ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان، جو فتنہ الخوارج (FAK) سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے اتحادی گروہوں نے قبول کی۔ اسی طرح داعش خراسان (ISKP) نے بھی بعض کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ ان گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت مل رہی ہے جس کے باعث پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔

حکومت پاکستان نے کہا ہے کہ وہ مسلسل افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کرتی رہی ہے کہ وہ اپنی سرزمین دہشت گردوں کے استعمال سے روکنے کیلئے مؤثر اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے، تاہم اس حوالے سے کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

یہ بھی پڑھیں:سستی الیکٹرک بائیکس کی فراہمی شروع، آپ اہل ہیں یا نہیں؟ جانیے

بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، لیکن شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔

اسی پس منظر میں پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے پاک افغان سرحدی علاقے میں فتنہ الخوارج (FAK) اور داعش خراسان سے وابستہ دہشت گردوں کے 7 کیمپوں اور ٹھکانوں کو انٹیلیجنس بنیادوں پر ہدف بنایا۔ حکام کے مطابق یہ کارروائیاں انتہائی درستگی اور احتیاط کے ساتھ کی گئیں۔

پاکستان نے عبوری افغان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور اپنی سرزمین کو پاکستان کیخلاف استعمال ہونے سے روکے، ساتھ ہی عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ دوحہ معاہدے کے تحت افغان طالبان کو اپنی یقین دہانیوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کیلئے مثبت کردار ادا کرے، کیونکہ یہ اقدام علاقائی اور عالمی امن کیلئے ناگزیر ہے۔

ضرور پڑھیں