وہ کچھ عرصے سے علیل تھے اور لاہور کے شیخ زید ہسپتال میں زیرِ علاج تھے، ان کے انتقال کی خبر ملتے ہی ادبی اور مذہبی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی فضا چھا گئی۔
سید سلمان گیلانی 1951 میں لاہور میں پیدا ہوئے، وہ ختمِ نبوت کے پرجوش داعی اور معروف مذہبی رہنما سید امین گیلانی کے صاحبزادے تھے، جنہیں شاعرِ ختمِ نبوت کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ سید سلمان گیلانی نے اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دینِ اسلام، نعتِ رسول ﷺ اور سماجی مسائل کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔
یہ بھی پڑھیں:کیا آپ 13 ہزار روپے رمضان امداد کے اہل ہیں؟ فوری چیک کریں
مرحوم کی عمر 74 برس تھی، ان کے پسماندگان میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ وہ نعتیہ کلام کے ساتھ ساتھ مزاحیہ اور طنزیہ شاعری میں بھی خاص مقام رکھتے تھے۔ ان کی شاعری میں مذہبی جذبہ، سماجی شعور اور شائستہ مزاح نمایاں تھا، جس نے انہیں عوام میں مقبول بنایا۔
ان کی معروف تصنیف میری باتیں ہیں یاد رکھنے کی، کو بھی ادبی حلقوں میں خوب پذیرائی ملی، جس میں ان کی یادداشتیں اور دلچسپ واقعات شامل ہیں۔
مرحوم کے جنازے کا اعلان تاحال نہیں کیا گیا، اہلِ خانہ اور مداحوں کی بڑی تعداد ان کیلئے دعائے مغفرت کر رہی ہے۔