ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں بتایا ہے کہ وزیر اعظم یوتھ لیپ ٹاپ اسکیم کے تحت لیپ ٹاپس کی تقسیم کا عمل باقاعدہ طور پر شروع ہو چکا ہے اور ملک بھر کی جامعات میں اس سلسلے میں پیش رفت جاری ہے۔
LAPTOP DISTRIBUTION UNDER PRIME MINISTER’S YOUTH LAPTOP SCHEME NOW FULLY UNDERWAY!
— Niaz Ahmad Akhtar (@DrNiazAhmadSI) February 20, 2026
Dear Laptop Recipients,
Laptops have been delivered to your university! Visit your university, submit the required documents to the focal person, and collect your laptop.
Get ready to enhance…
چیئرمین ایچ ای سی کے مطابق جن طلبہ نے اسکیم کے تحت درخواستیں جمع کروائی تھیں، ان کے لیے لیپ ٹاپس متعلقہ یونیورسٹیوں میں پہنچا دیے گئے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو ہدایت کی کہ وہ اپنی اپنی جامعات کا دورہ کریں، وہاں مقرر کردہ فوکل پرسن سے رابطہ کریں اور مطلوبہ دستاویزات جمع کروا کر اپنا لیپ ٹاپ وصول کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عمل کو شفاف اور منظم بنانے کے لیے باقاعدہ طریقہ کار وضع کیا گیا ہے تاکہ حقدار طلبہ کو بروقت سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: آپ رمضان پیکج 13 ہزار کے اہل ہیں یا نہیں؟ جانیے
ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے اپنے پیغام میں طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیپ ٹاپ کی فراہمی سے طلبہ اپنے تعلیمی تجربے کو مزید مؤثر، جدید اور با معنی بنا سکیں گے۔ آن لائن ریسرچ، ڈیجیٹل لرننگ، اسائنمنٹس کی تیاری اور مختلف سافٹ ویئرز کے استعمال میں یہ سہولت نمایاں کردار ادا کرے گی۔
وزیر اعظم یوتھ لیپ ٹاپ اسکیم کا مقصد ملک کے باصلاحیت اور محنتی طلبہ کو ڈیجیٹل سہولیات فراہم کرنا اور انہیں تعلیمی میدان میں عالمی معیار کے مطابق آگے بڑھنے کے مواقع دینا ہے۔ اس اسکیم کے ذریعے ہزاروں طلبہ کو جدید لیپ ٹاپ فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ تعلیم، تحقیق اور جدت کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کر سکیں۔
ایچ ای سی حکام کا کہنا ہے کہ طلبہ کو چاہیے کہ وہ مقررہ وقت میں اپنی یونیورسٹی سے رابطہ کریں اور تمام ضروری تقاضے پورے کریں تاکہ کسی بھی قسم کی تاخیر سے بچا جا سکے۔ اس اقدام کو نوجوانوں کی تعلیمی ترقی اور ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کی تکمیل کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔