بعض عناصرمسئلہ فلسطین پر قوم میں تقسیم چاہتے ہیں: طاہر اشرفی
چیئرمین پاکستان علماء کونسل علامہ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ بعض عناصر صرف اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے مسئلہ فلسطین پر پاکستانی قوم میں تقسیم چاہتے ہیں۔
فائل فوٹو
اسلام آباد: (سنو نیوز) چیئرمین پاکستان علماء کونسل علامہ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ بعض عناصر صرف اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے مسئلہ فلسطین پر پاکستانی قوم میں تقسیم چاہتے ہیں۔

غزہ کی صورتحال پر امن بورڈکے اجلاس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور اسلامی ممالک کی غزہ امن بورڈ میں شمولیت اہل فلسطین کیلئے ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عوام اور ریاست کا مؤقف فلسطین کے مسئلہ پر ایک اور متفقہ ہے، بعض عناصر صرف سیاست کے لئے فلسطین کے مسئلہ پر پاکستانی قوم میں تقسیم پیدا کرنا چاہتے ہیں، وزیر اعظم میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر نے فلسطین کے معاملے پر ہمیشہ امت مسلمہ کی ترجمانی کی ہے۔

علامہ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ ہم امید کرتے ہیں غزہ امن بورڈ کے آج ہونے والے اجلاس میں ایک بار پھر وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف مسئلہ فلسطین پر پاکستان کے اصولی مؤقف پر بات کریں گے۔

سربراہ پاکستان علماء کونسل نے مزید کہا کہ ہمارا مؤقف واضح ہے کہ ایک آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام جس کا دارالخلافہ القدس شریف ہو، غزہ کی تعمیر نو ہو، مکمل جنگ بندی اور اسرائیلی وحشت اور بربریت کا خاتمہ ہو۔

دیگر اہم نکات

‏پاکستان کی غزہ سے متعلق اقوامِ متحدہ کی منظور شدہ جنگ بندی اور تعمیرِ نو کے فریم ورک میں شرکت پاکستان کے مؤقف میں کسی تبدیلی کی علامت نہیں ہے، قیامِ پاکستان سے آج تک پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کی حمایت کی ہے اور اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا، یہ پالیسی آج بھی وہی ہے جو پہلے تھی۔

‏بورڈ آف پیس میں شمولیت کا اقدام اجتماعی ہے جس میں سعودی عرب، تُرکیہ، مصر، اُردن، متحدہ عرب امارات، قطر، اور انڈونیشیا بھی شامل ہیں، اس لیے اسے کسی قسم کی “نارملائزیشن” یا اسرائیل کو تسلیم کرنے سے جوڑنا درست نہیں، کثیرالجہتی فورمز میں شرکت سفارتی تعلقات کے برابر نہیں ہوتی بلکہ گلوبل زمہ داری کا آئینہ دار ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کی ایک بار پھر وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی تعریف

‏پاکستان کی فورم میں شرکت واضح طور پر اس شرط کے ساتھ ہے کہ مستقل جنگ بندی ہو، غزہ کی تعمیرِ نو ہو، اور فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کی جائے۔

‏اہم بات یہ ہے کہ جنگ بندی اور تعمیرِ نو کے فیصلے وہی ممالک بہتر انداز میں کر سکتے ہیں جو میز پر موجود ہوں، پاکستان وہاں اس لیے موجود ہے تاکہ فلسطینی مفادات کا تحفظ کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ کوئی بھی قدم فلسطینی مؤقف کے خلاف نہ ہو۔

پاکستان کا تاریخی مؤقف آج بھی وہی ہے: فلسطین کی مکمل حمایت اور اسی اصول پر قائم رہتے ہوئے عملی کردار ادا کرنا۔