یہ اقدام مقدس مہینے کے دوران شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ روزمرہ استعمال کی اشیاء مقررہ سرکاری نرخوں پر باآسانی دستیاب ہوں، انتظامیہ کے مطابق رمضان بازار ترنول، ایچ-9، بری امام (بارہ کہو)، جی-6، جی-11 اور پاکستان ٹاؤن میں قائم کیے گئے ہیں، ان مقامات کا انتخاب آبادی کے تناسب سے کیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو طویل سفر نہ کرنا پڑے۔
اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد، عرفان میمن نے تمام چھ رمضان بازاروں کا دورہ کیا، انتظامات کا جائزہ لیا اور متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کیں کہ اشیائے ضروریہ کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے، انہوں نے سبزی، پھل، انڈے، چکن اور کریانہ اسٹالز کا معائنہ کیا اور چینی، گھی سمیت دیگر اشیاء کے معیار اور دستیابی کو چیک کیا۔
ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ تمام اشیاء صرف سرکاری ریٹ لسٹ کے مطابق فروخت کی جائیں اور کسی بھی دکاندار کو مقررہ قیمت سے زائد وصول کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ہر اسٹال پر واضح طور پر ریٹ لسٹ آویزاں کرنا لازمی قرار دیا گیا تاکہ خریدار خریداری سے پہلے قیمت چیک کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: رمضان ہر سال مختلف موسم میں کیوں آتا ہے؟ دلچسپ معلومات
حکام نے بتایا کہ اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ رمضان بازاروں کی کارکردگی سے متعلق روزانہ رپورٹس جمع کرائیں،ان رپورٹس میں قیمتوں کی پابندی،اشیاء کی دستیابی، صفائی کی صورتحال اورعوامی شکایات کی تفصیلات شامل ہوں گی تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔
شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صرف آویزاں شدہ ریٹ لسٹ کے مطابق خریداری کریں اور ادائیگی سے قبل قیمت ضرور چیک کریں، زائد قیمت وصول کیے جانے یا کسی بھی شکایت کی صورت میں موقع پر موجود پرائس کنٹرول مجسٹریٹس سے فوری رابطہ کیا جائے۔
انتظامیہ نے واضح کیا کہ زائد قیمت وصول کرنے یا سرکاری احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور رمضان المبارک کے دوران باقاعدہ انسپکشن کا سلسلہ جاری رہے گا تاکہ رمضان بازار اپنے مقصد یعنی عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں کامیاب رہیں۔