اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ رمضان کی عیسوی (انگریزی) تاریخ ہر سال کیوں بدل جاتی ہے؟ یہ کبھی گرمی تو کبھی سردی کے موسم میں کیوں آتا ہے؟
ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ اسلامی اور عیسوی کیلنڈرز کا فرق ہے، اسلامی کیلنڈر قمری نظام پر مبنی ہے، جس میں سال عموماً 354 یا 355 دنوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس عیسوی کیلنڈر شمسی نظام کے مطابق 365 یا 366 دنوں کا ہوتا ہے، اس طرح قمری سال، شمسی سال سے تقریباً 10 سے 12 دن چھوٹا ہوتا ہے۔
اسی فرق کے باعث ہر سال رمضان المبارک عیسوی کیلنڈر کے مقابلے میں تقریباً 10 سے 12 دن پہلے آ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تقریباً 33 سال کے عرصے میں رمضان تمام موسموں سے گزر جاتا ہے، یعنی کبھی شدید گرمی میں آتا ہے تو کبھی سردیوں میں۔
یہ بھی پڑھیں:پولٹری ایسوسی ایشن کا خصوصی سبسڈی کا اعلان
اسلامی مہینوں کا آغاز چاند کی رؤیت سے ہوتا ہے، اس لیے مختلف ممالک میں رمضان کے آغاز کی تاریخ میں ایک دن کا فرق بھی ممکن ہوتا ہے۔
ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ قمری اور شمسی کیلنڈر کا یہی فرق رمضان کی تاریخ میں سالانہ تبدیلی کی اصل وجہ ہے، جو اسے دیگر مہینوں سے منفرد بناتا ہے۔