کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے کی، عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد دونوں ملزمان کی ضمانت 10، 10 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کرنے کا حکم جاری کیا۔
سماعت کے دوران ملزمان کے وکیل ریاست علی آزاد نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمہ بے بنیاد اور من گھڑت ہے، ایف آئی آر اچانک درج کی گئی اور ملزمان کو اس کے وجود تک کا علم نہیں تھا، میں خود بھی اسی مقدمے میں نامزد ہیں لیکن اس بارے میں پیشگی اطلاع نہیں دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان سے ڈیل؟ وفاقی وزیراطلاعات نے واضح کردیا
وکیل دفاع نے مزید کہا کہ جس واقعے کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا وہ حقیقت میں پیش ہی نہیں آیا، لہٰذا یہ کارروائی بدنیتی پر مبنی ہے۔
یاد رہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف تھانہ سیکرٹریٹ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں احتجاج اور پولیس کے ساتھ مبینہ مزاحمت کی دفعات شامل تھیں۔ عدالت کے فیصلے کے بعد دونوں کو قانونی ریلیف مل گیا۔