ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ عمران خان کا علاج راولپنڈی اور اسلام آباد کے بہترین سرکاری ہسپتال میں جاری ہے جہاں ماہر ترین ڈاکٹرز کی ٹیم ان کی نگرانی کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طبی ماہرین کی سفارشات اور مکمل میڈیکل چیک اپ کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مخصوص ادویات اور انجکشنز کے ذریعے علاج کو آگے بڑھایا جائے تاکہ صحت کے مسائل کو مؤثر انداز میں قابو کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ سے ملاقات کرا دی گئی
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ عمران خان کو پہلے مرحلے میں ایک خصوصی انجکشن لگایا جائے گا جبکہ تقریباً ایک ماہ بعد دوسرا انجکشن دیا جائے گا، جس کے بعد ان کی صحت میں مزید بہتری کی توقع کی جا رہی ہے، عمران خان کی فیملی کو علاج کے ہر مرحلے پر اعتماد میں لیا جا رہا ہے اور انہیں تمام طبی پیش رفت سے آگاہ رکھا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ علاج کے معاملے میں مکمل شفافیت اختیار کی جائے گی۔
ڈاکٹر طارق فضل چودھری کا کہنا تھا کہ حکومت قانون اور انسانی حقوق کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قیدیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی پابند ہے۔ انہوں نے اس تاثر کی تردید کی کہ کسی بھی قیدی کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے، اور کہا کہ عمران خان سمیت تمام افراد کو میڈیکل بورڈ کی سفارشات کے مطابق علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ طے شدہ علاج کے مراحل مکمل ہونے کے بعد عمران خان کی صحت میں واضح بہتری آئے گی۔ وفاقی وزیر نے عوام سے اپیل کی کہ صحت سے متعلق معاملات کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے انسانی ہمدردی کے جذبے سے دیکھا جائے اور افواہوں سے گریز کیا جائے۔