سرکاری میڈیکل کالج کی چھت سے چھلانگ لگا کر طالبہ کی خودکشی
فاطمہ جناح میڈیکل کالج کی چھت سے طالبہ نے مبینہ طور چھلانگ لگا کر خودکشی کی کوشش کی ہے۔
فائل فوٹو
لاہور: (سنو نیوز) فاطمہ جناح میڈیکل کالج کی چھت سے طالبہ نے مبینہ طور چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی۔

پولیس کے مطابق طالبہ نے کالج کی تیسری منزل سے چھلانگ لگائی، امدادی ٹیم نے متاثرہ طالبہ کو طبی امداد کے لیے گنگا رام ہسپتال منتقل کیا تاہم وہ دوران علاج دم توڑ گئی۔

 پولیس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ متوفیہ طالبہ میڈیکل کالج کے ہاسٹل میں رہائش پذیر تھی، چھلانگ لگانے والی لڑکی کی شناخت فریحہ کے نام سے ہوئی ہے جو آزاد کشمیر کی رہائشی ہے، طالبہ کی خودکشی کرنے کی وجوہات کا تعین کیا جا رہا ہے۔

 پولیس ذرائع کا بتانا ہے کہ فریحہ کے فائنل ایئر کے پیپر ہو رہے تھے ، فائنل ایئر کا دوسرا پیپر جمعہ کے روز 19 فروری کو ہونا ہے، ایک پیپر ہو چکا ہے اور دوسرے پیپر کی تیاری کر رہی تھی لڑکی کافی زیادہ ڈپریشن کا شکار رہتی تھی۔

پولیس کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ طالبہ پیپروں کی وجہ سے دلبرداشتہ ہوگئی اور تیسری منزل سے چھلانگ لگا دی، متاثرہ طالبہ میڈیکل کالج کے ہاسٹل میں رہائش پذیرتھی۔

یاد رہے کہ ایک ماہ قبل کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں بھی طالبہ نے مبینہ طور پر خودکشی کی کوشش کی تھی ، متاثرہ طالبہ نے مبینہ طور پر نشہ آور گولیاں کھا کر خودکشی کرنے کی کوشش کی جس کے بعد حالت غیر ہونے پر طالبہ کو میو ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں طالبہ کی خودکشی کی کوشش

خیال رہے کہ رواں سال کے آغاز پر بھی نجی یونیورسٹی کی طالبہ نے یونیورسٹی بلڈنگ سے چھلانگ لگا کر مبینہ طور پر خودکشی کی کوشش کی تھی جس میں وہ بال بال بچ گئی تھی۔

ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ طالبہ فاطمہ اپنے گھر والوں کی جانب سے پسند کی شادی کی اجازت نہ ملنے پر شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھی، طالبہ اپنے ایک دوست سے شادی کرنا چاہتی تھی، تاہم اہلِ خانہ اس رشتے کیخلاف تھے اور اس پر کسی اور جگہ شادی کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔

تحقیقات سے معلوم ہوا تھا کہ اسی معاملے پر گھر میں جھگڑا بھی ہو چکا تھا جس کے بعد فاطمہ نے اہلِ خانہ کی ناراضگی اور مسلسل دباؤ کے باعث دلبرداشتہ ہو کر انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے یونیورسٹی جانے کے بعد عمارت کی دوسری منزل سے چھلانگ لگا دی تھی۔