ہسپتال ذرائع کا بتانا ہے ککہ متاثرہ طالبہ نے مبینہ طور پر نشہ آور گولیاں کھا کر خودکشی کرنے کی کوشش کیم حالت غیر ہونے پر طالبہ کو میو ہسپتال لایا گیا جہاں وہ موت کی کشمکش میں وینٹی لیٹر پر موجود ہے۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق طلبہ کا کمرہ ہاسٹل کے بیسمنٹ میں ہے تاہم طالبہ نے خودکشی کی کوشش کیوں کی اس حوالے مزید کوئی تفصیل تاحال سامنے نہیں آسکی۔
دوسری جانب ترجمان کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی نے بتایا ہے کہ متاثرہ طالبہ کی حالت اب خطرے سے باہر ہے، واقعہ کی اطلاع ملتے ہی طالبہ کو فوری طورپر ہسپتال منتقل کر کے طبی امداد فراہم کی گئی، ڈاکٹرز کی ٹیم طالبہ کی مکمل دیکھ بھال کر رہی ہے، طالبہ کو طبی اور نفسیاتی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نجی یونیورسٹی کی طالبہ نے چھت سے چھلانگ لگا دی
یاد رہے کہ اس سے قبل رواں ماہ کے آغاز میں بھی نجی یونیورسٹی کی طالبہ نے یونیورسٹی بلڈنگ سے چھلانگ لگا کر مبینہ طور پر خودکشی کی کوشش کی تھی جس میں وہ بال بال بچ گئی تھی۔
ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ طالبہ فاطمہ اپنے گھر والوں کی جانب سے پسند کی شادی کی اجازت نہ ملنے پر شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھی، طالبہ اپنے ایک دوست سے شادی کرنا چاہتی تھی، تاہم اہلِ خانہ اس رشتے کیخلاف تھے اور اس پر کسی اور جگہ شادی کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔
تحقیقات سے معلوم ہوا تھا کہ اسی معاملے پر گھر میں جھگڑا بھی ہو چکا تھا جس کے بعد فاطمہ نے اہلِ خانہ کی ناراضگی اور مسلسل دباؤ کے باعث دلبرداشتہ ہو کر انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے یونیورسٹی جانے کے بعد عمارت کی دوسری منزل سے چھلانگ لگا دی تھی۔