جاری اعلامیے کے مطابق اس روز تمام کمرشل بینک، ڈویلپمنٹ فنانشل انسٹی ٹیوشنز اور مائیکرو فنانس بینک عوامی لین دین کے لیے بند رہیں گے۔ تاہم بینکوں کے ملازمین کے لیے یہ دن معمول کے ورکنگ ڈے کے طور پر شمار ہوگا اور وہ حسب معمول اپنے دفاتر میں حاضر ہو کر دفتری امور سرانجام دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سکولوں کے اوقات کار میں تبدیلی، نوٹیفکیشن جاری
اسٹیٹ بینک کی جانب سے وضاحت کی گئی ہے کہ یکم رمضان کو تعطیل دینے کا مقصد سیونگ اکاؤنٹس سے زکوٰۃ کی کٹوتی کے انتظامی امور کو بروقت اور منظم انداز میں مکمل کرنا ہے۔ ہر سال رمضان المبارک کے آغاز پر مقررہ نصاب کے مطابق اہل کھاتہ داروں کے بچت اکاؤنٹس سے زکوٰۃ کی کٹوتی کی جاتی ہے، جس کے لیے بینکوں کو مخصوص انتظامات درکار ہوتے ہیں۔ اسی سلسلے میں عوامی لین دین عارضی طور پر معطل رکھا جاتا ہے تاکہ نظام میں کسی قسم کی رکاوٹ یا تکنیکی خرابی سے بچا جا سکے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ بینک شاخیں عوام کے لیے بند رہیں گی، تاہم بینکوں کا اندرونی نظام فعال رہے گا اور عملہ زکوٰۃ کٹوتی سمیت دیگر دفتری معاملات کو مکمل کرنے کا پابند ہوگا۔ اس دوران آن لائن بینکاری، اے ٹی ایم سروسز اور ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز معمول کے مطابق دستیاب رہنے کا امکان ہے، تاہم صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی اہم مالیاتی لین دین کو یکم رمضان سے قبل یا بعد میں مکمل کر لیں تاکہ انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
مرکزی بینک نے صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ تعطیل کے باعث پبلک ڈیلنگ نہ ہونے کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی مالی منصوبہ بندی پہلے سے کر لیں، خاص طور پر وہ افراد جنہیں تنخواہوں، بلوں کی ادائیگی یا دیگر ضروری ادائیگیوں کا معاملہ درپیش ہو۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق یہ اقدام ہر سال کی طرح ایک باقاعدہ انتظامی عمل کا حصہ ہے جس کا مقصد شرعی تقاضوں کے مطابق زکوٰۃ کی کٹوتی کو یقینی بنانا اور بینکاری نظام کو منظم رکھنا ہے۔