رجسٹرار آفس نے کہا ہے کہ بانی چئیرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے مرکزی اپیل پر بروقت اعتراضات دور نہیں کیے، جس کے باعث ضمانت کی درخواست پر قانونی کارروائی متاثر ہوئی۔
رجسٹرار آفس نے اپنے اعتراض میں واضح کیا کہ توشہ خانہ ٹو کیس کی مرکزی اپیل پر اعتراضات کو 7 دن کے اندر دور کرنا ضروری تھا، تاہم درخواست گزار نے اس مدت میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے۔
رجسٹرار کے مطابق بروقت اعتراضات دور نہ کرنے کے باعث ضمانت کی درخواست قابل قبول نہیں ہو سکتی، یہ قانونی پیچیدگی پیدا کر رہی ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کیے بغیر عدالت کی جانب سے سزا معطلی یا ضمانت کی درخواست کا جائزہ لینا ممکن نہیں ہے۔ اس فیصلے کے بعد کیس کی سماعت میں تاخیر متوقع ہے اور قانونی پیچیدگیوں کے حل کیلئے درخواست گزار کو فوری طور پر اعتراضات دور کرنے ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کا اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا معائنہ، میڈیکل ٹیم واپس روانہ
ذرائع کے مطابق عمران خان کی اپیل پر رجسٹرار آفس نے یہ موقف اختیار کیا کہ قانونی کارروائی کے تمام مراحل کی پاسداری ضروری ہے، عدالت اس قانونی تقاضے کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں دے سکتی۔
کیس کے آئندہ سماعت کے دوران عدالت اس اعتراض کے حوالے سے حتمی فیصلہ کرے گی، جس کے بعد ضمانت یا سزا معطلی کے بارے میں حتمی رائے سامنے آئے گی۔