ملک کے مختلف شہروں میں آگ لگنے کے متعدد واقعات نے حفاظتی انتظامات کی صورتحال کو ایک بار پھر زیر بحث لا دیا ہے، کراچی میں جنوری 2026 کو تین مختلف مقامات پر آتشزدگی کے واقعات پیش آئے، صدر لکی اسٹار کے قریب ایک رہائشی فلیٹ کے گیزر میں گیس لیکج کے باعث آگ بھڑک اٹھی جسے ایک فائر ٹینڈر نے آدھے گھنٹے میں بجھا دیا۔
نیو کراچی گودھرا مسلم اسپتال کے قریب کپڑے کے گودام میں لگی آگ پر چار گاڑیوں نے دو گھنٹے کی کوشش کے بعد قابو پایا جبکہ نالہ اسٹاپ کے قریب لکڑی کے گودام میں بھڑکنے والی آگ سے قیمتی سامان جل کر خاکستر ہو گیا، خوش قسمتی سے ان واقعات میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اسی طرح 6 فروری 2026 کو لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں پلاسٹک بنانے والی فیکٹری میں آگ بھڑک اٹھی جس نے ملحقہ یونٹ کو بھی لپیٹ میں لے لیا، گیارہ گھنٹے کی مسلسل جدو جہد کے بعد شعلوں پر قابو پایا گیا، حکام کے مطابق کولنگ کا عمل کئی روز جاری رہا۔
لاہور میں بھی حالیہ دنوں آتشزدگی کے افسوسناک واقعات سامنے آئے جہاں گلبرگ کے ایک نجی ہوٹل کے ایک بیسمنٹ میں لگنے والی آگ سے ایک نوجوان جان کی بازی ہار گیا جبکہ پانچ افراد جھلس گئے اور 180 افراد کو بحفاظت نکالا گیا، اسی طرح اندرون لوہاری گیٹ ایک گھر میں پٹرول کے گیلکن میں آگ لگنے سے پینتالیس سالہ خاتون جاں بحق ہوگئیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایبٹ آباد یونیورسٹی، قاتلانہ حملے میں پی ٹی آئی رہنما جاں بحق
قصور میں بھی ایک سانحہ رونما ہوا جہاں ایل پی جی سلنڈر کی دکان میں گیس لیکج کے باعث آگ بھڑکنے سے تین افراد زخمی ہوئے۔
اعدادوشمار صورت حال کی سنگینی واضح کرتے ہیں، ریسکیو 1122 پنجاب کے مطابق 2025 کے دوران صوبے میں آگ لگنے کی 28 ہزار 828 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں ایک سو افراد جان سے گئے اور بارہ سو سے زائد زخمی ہوئے جبکہ اربوں روپے کا نقصان ہوا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شارٹ سرکٹ، گیس لیکج، ناقص وائرنگ اور حفاظتی اصولوں سے غفلت ایسے حادثات کی بڑی وجوہات ہیں۔
کراچی کے معروف گل پلازہ میں لگنے والی آگ پر تیس سے زائد گھنٹے بعد قابو پایا گیا تھا جس نے شہری فائر سروس کی استعداد پر بھی سوال اٹھائے، مبصرین کے مطابق تیزی سے پھیلتے شہروں میں جدید آلات اور پیشگی حفاظتی نظام ناگزیر ہو چکے ہیں بصورت دیگر معمولی چنگاری بھی بڑے سانحے کا روپ دھار سکتی ہے۔