ایبٹ آباد یونیورسٹی، قاتلانہ حملے میں پی ٹی آئی رہنما جاں بحق
ایبٹ آباد یونیورسٹی
یہ افسوسناک واقعہ حویلیاں یونیورسٹی میں پیش آیا/ فائل فوٹو
(سنو نیوز): ایبٹ آباد یونیورسٹی میں قاتلانہ حملے کا شکار ہونے والے طالبعلم اور انصاف سٹوڈنٹ فیڈریشن کے متحرک رکن عبداللہ خانزادہ جدون زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

یہ افسوسناک واقعہ حویلیاں یونیورسٹی میں پیش آیا، جہاں پی ٹی آئی کے ورکر اور طالب علم عبداللہ کو قتل کر دیا گیا۔ اس قتل میں مقامی پی ٹی آئی کے ایم پی اے افتخار جدون کے بیٹے کا نام سامنے آیا ہے، جس کے بعد طلباء نے شدید احتجاج کیا اور سڑکوں کو بند کر دیا۔

طلباء کے احتجاج کے بعد پولیس نے ایف آئی آر درج کی اور ایم پی اے افتخار خان کے بیٹے سمیت پانچ افراد پر مقدمہ درج کر لیا۔ ان افراد میں اسامہ، حسن خان، اور ثناء اللہ خان جدون شامل ہیں۔ جھگڑے کے دوران عبداللہ خانزادہ جدون جان بحق ہوگئے، جبکہ دو دیگر افراد شدید زخمی ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان سے ملاقات کا دن ،کون کون ملے گا؟

مقتول عبداللہ خانزادہ بی ایس میتھ کے پانچویں سمسٹر کا طالب علم تھا اور وہ ضلع ہری پور کے گاؤں کیلگ کا رہائشی تھا۔ عبداللہ انصاف سٹوڈنٹ فیڈریشن کا فعال رکن تھا اور اپنے تعلیمی کیریئر میں اپنے ساتھیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کے حوالے سے جانا جاتا تھا۔

یہ واقعہ ایبٹ آباد یونیورسٹی کے طالب علموں کے لیے ایک بڑا سانحہ بن چکا ہے۔ اس قتل کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد، یونیورسٹی کے طلباء نے شدید غم و غصہ کا اظہار کیا اور انصاف کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے ملزمان کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے، اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

یہ قتل نہ صرف ایبٹ آباد یونیورسٹی کے طالب علموں کے لیے ایک دکھ بھری بات ہے بلکہ اس سے پورے تعلیمی ادارے اور مقامی کمیونٹی میں بھی غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ پولیس اور مقامی حکام اس قتل کے معاملے میں انصاف فراہم کرتے ہیں یا نہیں۔