اس فیصلے کا اطلاق گریڈ ایک سے لے کر گریڈ 22 تک کے تمام سرکاری ملازمین پر ہوگا، جس سے توقع کی جا رہی ہے کہ رہائشی سہولتوں کی فراہمی کا نظام مزید منظم اور تیز رفتار ہو جائے گا۔
وزارت ہاؤسنگ و تعمیرات کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق نئی پالیسی تمام وزارتوں اور ڈویژنز کو عملدرآمد کیلئے باقاعدہ سرکولیٹ کر دی گئی ہے۔ جوائنٹ سیکرٹری وزارت ہاؤسنگ و تعمیرات فیاض الحق کی جانب سے بھی آفس میمورنڈم جاری کیا گیا، جس میں تمام وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ملازمین کیلئے رہائش کے انتظامات اپنے مختص بجٹ کے اندر رہتے ہوئے کریں۔
اس اقدام کا بنیادی مقصد اخراجات پر قابو پانا، شفافیت کو یقینی بنانا اور رہائشی سہولتوں کے حصول کے عمل کو مؤثر بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اپنی چھت اپنا گھر اسکیم کیلئے حکومت نے نیا ماڈل متعارف کر دیا
نئی پالیسی کے تحت مختلف وزارتوں اور اداروں کو اپنے ملازمین کی رہائش کے معاملات میں زیادہ انتظامی خودمختاری حاصل ہوگی، جس سے فیصلوں میں تاخیر کم ہوگی اور ملازمین کو بروقت سہولت مل سکے گی۔
وزارت ہاؤسنگ کے ذرائع کے مطابق اس پالیسی سے نہ صرف مالی نظم و ضبط مضبوط ہوگا بلکہ سرکاری وسائل کے بہتر استعمال کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔ ملازمین کو ان کی ضروریات کے مطابق رہائش فراہم کرنے کے عمل میں شفافیت اور سہولت بڑھانے کیلئے یہ ایک تاریخی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔