خیبرپختونخوا میں گورننس کا بحران، ہائیکورٹ میں رٹ دائر
خیبرپختونخوا میں گورننس کے بحران پر پشاور ہائیکورٹ میں رٹ دائر کر دی گئی جو صوبائی حکومت کے لیے نیا چیلنج قرار دی جارہی ہے۔
فائل فوٹو
پشاور: (سنو نیوز) خیبرپختونخوا میں گورننس کے بحران پر پشاور ہائیکورٹ میں رٹ دائر کر دی گئی جو صوبائی حکومت کے لیے نیا چیلنج قرار دی جارہی ہے۔

ایڈووکیٹ سپریم کورٹ سیف اللہ محب کاکاخیل نے خیبرپختونخوا گورننس بحران رٹ پشاور ہائیکورٹ میں جمع کرادی، رٹ آئین پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت تیار کی گئی ہے۔

پشاور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی رٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ صوبے کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ، صوبائی وزرا، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز سیاسی احتجاج، جلسوں اور مظاہروں میں ہی مصروف ہیں، صوبے کے حکومتی عہدیدار اڈیالہ جیل اور دیگر مقاصد پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، ان کی خیبرپختونخوا میں عوامی مسائل پر کوئی توجہ نہیں۔

درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ صحت کا نظام تباہ، سرکاری ہسپتال وغیرہ میں بیڈز اور ویکسینز کی عدم دستیابی، وباؤں میں موئثر حکمت عملی کا شدید فقدان ہے، ماحولیاتی مسائل، اسموگ، آلودگی، ان فٹ گاڑیاں، درختوں کی بے دریغ کٹائی اور شہریوں کی بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی حکومتی غفلت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی فیملی پر تنقید پارٹی پالیسی کیخلاف ہے، بیرسٹر گوہر

رٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ رائٹ ٹو انفارمیشن کمیشن، رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن اور سیٹیزن پورٹل جیسے ادارے غیر مؤثر ہو چکے، عوامی شکایات کا ازالہ نہیں ہو رہا، آئینی عہدے عوام کی امانت ہیں۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ حکومت دھرنوں، جلسوں، جلوس میں مصروف ہے لہٰذا متبادل نظام تشکیل دیا جائے، وزیراعلیٰ و کابینہ کو آئین، رولز آف بزنس ، حلف اور گڈ گورننس کا پابند کیا جائے، حکومت کو متبادل انتظامی نظام قائم کرنے کا پابند کیا جائے۔

عدالت سے استدعا کی گئی کہ ڈپٹی وزیراعلیٰ ، اضافی وزیراعلیٰ یا قائم مقام وزیراعلیٰ کی تقرری کا نوٹیفکیشن انتظامی نظام میں شامل ہو، حکومت کو کابینہ اور وزراء کی سیکرٹریٹ میں حاضری اور سابقہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا جائے۔