میڈیا سے گفتگو میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 8 فروری کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اپیل ہے، پورے پاکستان سے عوام کو احتجاج میں شامل ہونے کی درخواست کی گئی ہے، کے پی کے یا پنجاب کی تخصیص نہیں، احتجاج پورے ملک میں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا مشال یوسفزئی کو شوکاز جاری کرنے کا فیصلہ
بیرسٹر گوہرِ کا کہنا تھا کہ 8 فروری کو احتجاج رضا کارانہ ہوگا، کسی پر زور زبردستی نہیں، آٹھ فروری کا دن جمہوریت کے لیے ایک بڑا سیاہ دن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی فیملی پر تنقید پارٹی پالیسی کے خلاف ہے، پارٹی رہنماؤں کو ضبط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کے صاحبزادے قاسم خان نے کہا ہے کہ وہ اور ان کے بھائی اپنے والد سے ملاقات کیلئے پاکستان آنا چاہتے ہیں، تاہم حکومت جان بوجھ کر ان کے ویزوں پر کارروائی نہیں کر رہی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں قاسم خان نے کہا کہ عمران خان گزشتہ 914 دنوں سے تنہائی میں قید ہیں، اس دوران ان کی صحت مسلسل خراب ہو رہی ہے، مگر انہیں آزاد اور غیر جانبدار طبی سہولیات تک رسائی نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ والد کی بگڑتی ہوئی صحت پورے خاندان کیلئے شدید ذہنی اذیت کا باعث بن چکی ہے، کسی قیدی کو مناسب علاج سے محروم رکھنا ظلم کے مترادف ہے، جبکہ بچوں کو اپنے والد سے ملاقات کی اجازت نہ دینا اجتماعی سزا کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال ناقابلِ تلافی نقصان کی طرف جا سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اور ان کے بھائی صرف اپنے والد کی خیریت جاننے اور ان سے ملاقات کے خواہاں ہیں، لیکن ویزا نہ ملنے کے باعث یہ بنیادی حق بھی ان سے چھینا جا رہا ہے۔ قاسم خان نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور مختلف ممالک کی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور اپنی آواز بلند کریں۔
بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ عمران خان کو فوری طور پر مناسب طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور اہلِ خانہ کو ان سے ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اس مسئلے کا حل نکالا جا سکے۔