واقعے کے فوراً بعد پولیس، ریسکیو اور دیگر امدادی ادارے موقع پر پہنچ گئے اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کیلئے کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔
دھماکے کے بعد آئی جی اسلام آباد کی ہدایت پر شہر بھر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی جبکہ سیکیورٹی اداروں کو بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے اور داخلی و خارجی راستوں کی کڑی نگرانی شروع کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔
ترجمان پمز اسپتال کے مطابق ای ڈی پمز کی ہدایت پر اسپتال میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، زخمیوں کو پمز اور پولی کلینک ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں علاج معالجے کیلئے تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مین ایمرجنسی، آرتھوپیڈک، برن سنٹر اور نیورو ڈیپارٹمنٹ کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے تاکہ زخمیوں کو بروقت اور مؤثر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: عام آدمی پارٹی کے رہنما لکی اوبرائے فائرنگ سے ہلاک
ذرائع کے مطابق دھماکے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی نوعیت اور وجوہات جاننے کیلئے تحقیقات کر رہے ہیں۔ سیکیورٹی حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور غیر ضروری طور پر متاثرہ علاقے کا رخ نہ کریں۔