سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ مفت ٹرانسپورٹ سہولت 6، 7 اور 8 فروری کو لاہور میں جاری بسنت تقریبات کے دوران دستیاب ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد شہر میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا، پارکنگ کے مسائل سے نجات دلانا اور عوام کو محفوظ انداز میں تقریبات تک رسائی فراہم کرنا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس سہولت سے نہ صرف پنجاب کے شہری بلکہ بیرونِ ملک سے آنے والے سیاح بھی بھرپور فائدہ اٹھا سکیں گے۔
پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) کے مطابق معاہدے کے تحت دونوں کمپنیاں مجموعی طور پر 1 لاکھ 80 ہزار مفت رائیڈز فراہم کریں گی، جن میں ہر رائیڈ 8 کلومیٹر تک مفت ہوگی۔ اس سروس میں رکشے اور کیب دونوں شامل ہیں، جنہیں شہری موبائل ایپس کے ذریعے بک کر سکیں گے یا سڑک سے براہِ راست بھی حاصل کیا جا سکے گا۔
اعداد و شمار کے مطابق ابتدائی مرحلے میں تقریباً 6 ہزار رکشے اور 60 ہزار کیب رائیڈز دستیاب ہوں گی جو لاہور کے 24 اہم روٹس پر چلیں گی۔ یہ سہولت خاص طور پر بسنت کے دوران پتنگ بازی، ثقافتی پروگرامز اور دیگر تقریبات میں شرکت کرنے والوں کیلئے متعارف کرائی گئی ہے تاکہ شہری ذاتی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے استعمال میں کمی لائیں۔
یہ بھی پڑھیں:مریم نواز کا پتنگ بازی کے سامان کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس
دلچسپ امر یہ ہے کہ پنجاب حکومت اس معاہدے کے عوض کمپنیوں کو کوئی براہِ راست مالی ادائیگی نہیں کرے گی، اس کے بدلے ان ڈرائیو اور ینگو کو شہر کی مرکزی سڑکوں، چوراہوں اور عوامی مقامات پر اشتہاری اور برانڈنگ کی خصوصی اجازت دی جائے گی۔
اس کے علاوہ بسنت کے موقع پر مفت بس سروس بھی جاری رہے گی، جس میں 500 بسیں، میٹرو بس، اورنج لائن اور الیکٹرک بسیں شامل ہوں گی۔ حکومت کی جانب سے جلد ہی مکمل روٹس اور پک اپ پوائنٹس کا اعلان کیا جائے گا۔