سانحہ گل پلازہ: آگ لگنے کی وجہ سامنے آگئی
Gul Plaza investigation
فائل فوٹو
کراچی: (ویب ڈیسک) کراچی کے افسوسناک سانحہ گل پلازہ کو 19 روز گزر چکے ہیں، تاہم اس دل دہلا دینے والے واقعے کی تحقیقات میں روز بروز نئے اور حیران کن انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔

تفتیشی حکام کے مطابق آگ لگنے کی ابتدائی وجہ دکان نمبر 193 میں ایک بچے کا ماچس سے کھیلنا بنی، جس کے نتیجے میں آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات تاحال جاری ہیں، تاہم ایک بڑی رکاوٹ یہ سامنے آئی ہے کہ پہلی اور دوسری منزل کی سی سی ٹی وی فوٹیج دستیاب نہیں ہو سکی، جس کے باعث آگ پھیلنے کے اصل مناظر اور ابتدائی لمحات کی مکمل تصویر اب تک واضح نہیں ہو پائی۔ حکام کا کہنا ہے کہ فوٹیج نہ ملنے سے تفتیش کے کئی پہلو متاثر ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کی تعداد 79 ہو چکی ہے، جن میں سے 68 افراد کی میتیں اور باقیات ان کے ورثاء کے حوالے کی جا چکی ہیں، جبکہ باقی متاثرین کی شناخت اور قانونی کارروائی کا عمل جاری ہے۔ جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ انصاف کے منتظر ہیں اور ذمہ داروں کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:شب برات، سوئی سدرن کا صارفین کو بلا تعطل گیس فراہمی کا فیصلہ

دوسری جانب گل پلازہ سے نمائش جانے والی سڑک کو ہال ٹریفک کیلئے بند کر دیا گیا ہے، جس سے علاقے میں ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ تحقیقات مکمل نہ ہونے کے باعث گل پلازہ کی عمارت کو مسمار کرنے کا کام بھی شروع نہیں ہو سکا۔

حکام کے مطابق جب تک تحقیقات اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچتیں، عمارت کو گرانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔