علی حسن زہری نے وزارت میں مداخلت کو ایک سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے کام کو صحیح طریقے سے انجام دینے کے لئے آزاد ماحول چاہتے تھے، لیکن موجودہ حالات میں یہ ممکن نہیں ہو رہا تھا۔ انہوں نے اپنے استعفے کی وجہ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ان کو وزارت میں کام کرنے کی آزادی نہیں دی جاتی، اس وقت تک وہ وزیر زراعت کے عہدے پر نہیں رہ سکتے۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی صارفین کو ایک اور ہائی وولٹیج جھٹکا دینے کی تیاری
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ بلوچستان کے عوام کی خدمت کے لیے ہمیشہ تیار رہے ہیں، لیکن وزارت میں مداخلت کے باعث ان کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان سے درخواست کی کہ وہ ان کے استعفے کو منظور کریں اور بلوچستان کی زراعت کے شعبے میں بہتری کے لیے نئے وزیر کا انتخاب کریں۔
اس استعفے کے بعد، بلوچستان کی سیاسی جماعتوں میں مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ بعض سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ علی حسن زہری کا استعفیٰ حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتا ہے، جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ ان کا استعفیٰ صوبے کے زراعت کے شعبے میں اصلاحات کی ضرورت کی نشاندہی کرتا ہے۔