حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں مزید بتایا گیا کہ 5 فروری کی صبح 10 بجے پورے ملک میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی۔ اس خاموشی کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے نتیجے میں شہید ہونے والے کشمیریوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا اور ان کی قربانیوں کو یاد رکھنا ہے۔ اس موقع پر مساجد میں خصوصی دعائیں بھی کی جائیں گی جبکہ مختلف شہروں میں یکجہتی ریلیاں، سیمینارز اور تقاریب منعقد ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کی 8 فروری کے احتجاج کی حکمت عملی سامنے آگئی
یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہر سال پاکستان میں قومی جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس دن عوام، سیاسی و مذہبی جماعتیں، سول سوسائٹی اور طلبہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا بھرپور اظہار کرتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے عام تعطیل کا اعلان اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کشمیریوں کے ساتھ سیاسی، اخلاقی اور سفارتی سطح پر اپنی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔
سرکاری حلقوں کے مطابق یومِ کشمیر کے موقع پر دارالحکومت اسلام آباد سمیت تمام صوبائی دارالحکومتوں میں خصوصی تقریبات ہوں گی۔ سرکاری عمارات پر قومی پرچم سرنگوں رکھا جائے گا اور میڈیا پر خصوصی پروگرام نشر کیے جائیں گے جن میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کشمیری عوام کی جدوجہد کو اجاگر کیا جائے گا۔
وفاقی حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ یومِ یکجہتیٔ کشمیر کے موقع پر امن و نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی یکجہتی کا اظہار کریں اور کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کا پیغام دنیا تک پہنچائیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پُرامن حل کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا اور کشمیریوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔