پی ٹی آئی کی 8 فروری کے احتجاج کی حکمت عملی سامنے آگئی
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی 8 فروری کے احتجاج کی حکمت عملی سامنے آگئی۔
فائل فوٹو
اسلام آباد: (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی 8 فروری کے احتجاج کی حکمت عملی سامنے آگئی۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں پی ٹی کی پارلیمارنی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی بھی خصوصی طور پر شریک ہوئے، اجلاس میں بلوچستان میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی، شرکاء نے شہداء کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔

دوران اجلاس شرکاء نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت سے متعلق اطلاعات کے باعث پورے ملک کے عوام میں اضطراب کی کیفیت پائی جاتی ہے۔

پارٹی ذرائع کا بتانا ہے کہ اجلاس میں نوجوان اراکین نے 8 فروری کو بھر پور احتجاج کا مشورہ دیا جسےاعلیٰ قیادت نے مسترد کر دیا۔

پارلیمانی کمیٹی میں شامل پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ہم پر سختی ہے جس کے باعث بھرپوراحتجاج ریکارڈ کرانا ممکن نہیں،خیبر پختونخوا کو بند کرنا ناانصافی ہو گی، اگر صرف خیبر پختونخوا کو بند کیا تو لوگ ہم سے ہی شکوہ کریں گے کہ ووٹ بھی دیا اور صوبہ بھی بند کروا لیا۔

یہ بھی پڑھیں: علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

ذرائع کے مطابق اجلاس میں 8 فروری کے احتجاج کو شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال تک محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ،احتجاج میں کسی بھی صوبے اور شاہراہ کی بندش کے حوالے سے فیصلہ نہیں ہو سکا۔

اجلاس میں 8 فروری کو شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کو مؤثر بنانے کے لیے سٹریٹ موومنٹ میں تیز ی لانے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ سندھ اور پنجاب میں پارٹی کارکنان کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔

پارٹی ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وزیراعظم شہباز شریف سے ہونے والی ملاقات کو خوش آئند قرار دیا ، اجلاس میں شدید موسمی حالات کے دوران وادی تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے متاثرہ خاندانوں کی فوری بحالی اور مکمل ازالے کا بھی مطالبہ کیا گیااورخیبر جرگہ کے فیصلوں کی مکمل تائید کی گئی۔