رپورٹ کے مطابق افسوسناک واقعہ قصور کے علاقہ مصطفیٰ آباد کے نجی شادی ہال میں پیش آیا جہاں تین سالہ علی حور کھیلتے ہوئے نجی شادی ہال کے سیوریج کے ہول میں گرا، راہ گیروں نے بچے کو کئی فٹ گہرے مین ہول سے نکالا۔
بچے کو طبی امداد کے لیےنجی اسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ جانبرنہ ہو سکا، 3سالہ علی حور کی ہلاکت پر گھرمیں کہرام مچ گیا۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی اسسٹنٹ کمشنر غلام فاطمہ نے شادی ہال کا دورہ کیا اور سیوریج کے ہول جائزہ لیا، اسسٹنٹ کمشنر نے نجی شادی ہال کو موقع پر ہی سیل کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ بھاٹی گیٹ، وزیراعلیٰ مریم نواز کا 6 افسران کی گرفتاری کا حکم
ڈپٹی کمشنر آصف رضا نے واقعہ نوٹس لیتے ہوئے شادی ہال کے مالک کو گرفتارکرنے کا حکم دے دیا، انہوں نے کہا کہ شادی ہال انتظامیہ کی غفلت پر مالک کے خلاف کارروائی کریں گے۔
ڈی پی او قصور محمد عیسیٰ خاں کی ہدایت پر تھانہ مصطفیٰ آباد پولیس نے 322 تعزیرات پاکستان کی دفعات کے تحت واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا، میرج ہال کے مالک، منیجر سمیت دیگر ملزمان کی گرفتاری کیلئے ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں۔
ڈی پی او قصور محمد عیسیٰ خاں کا کہنا تھا کہ افسوسناک واقعہ میں ملوث ملزمان کو جلد گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔
متوفی کے والد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ننھے علی کی کل سالگرہ تھی اور آج وہ الله کو پیارا ہو گیا ، کل علی پورے تین سال کا ہو جانا تھا لیکن زندگی نے ایک دن کی بھی مہلت نہیں دی۔
بچے کے والد کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کا کسی نے اثر نہیں لیا میرا بچہ چلا گیا میرے ساتھ بڑی زیادتی ہوئی ہے ، میری وزیر اعلیٰ مریم نواز اور اعلیٰ حکام سے اپیل ہے یہ جو زیادتی ہو رہی ہے اس کو روکا جائے تاکہ کسی اور کی جان نہ جا ئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ کل بھی اس پر تقریر کر رہی تھیں لیکن کیا اثر ہو رہا ہے ؟بچے گٹر میں گر کر جاں بحق ہو رہے ہیں۔