وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت سانحہ بھاٹی چوک سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں انہوں نے کمشنر ، ڈپٹی کمشنر لاہور سمیت متعلقہ افسران کی سرزنش کر دی، مریم نواز نے واقعہ پر افسران کی دلیلیں مسترد کر دیں اور فیک نیوز کا خود ہی پوسٹ مارٹم کر دیا۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ سانحہ بھاٹی گیٹ قتل سے کم نہیں ہے، کمشنر،ڈپٹی کمشنر،ایم ڈی واسا،ڈی جی ایل ڈی اے سمیت تمام محکمےحادثے کے ذمہ دار ہیں، متعلقہ افسران کی مجرمانہ غفلت پر سخت کیس بنایا جائے۔
وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف ائیرپورٹ لاونج میں خصوصی اجلاس سے خطاب کررہی ہیں https://t.co/DGCTetPMCB
— PMLN (@pmln_org) January 29, 2026
وزیراعلیٰ نے کہا کہ آپ کے سینے میں دل بھی ہے یا نہیں، دس ڈیپارٹمنٹ بیٹھے ہیں لیکن جواب ایک کے پاس بھی نہیں، میری یا آپ کی بیٹی گر کر مرتی تو پورا سسٹم ہل کر رہ جاتا، افسوس ہے کہ متاثرہ خاندان کے ساتھ ہمدردی کے بجائے انہیں تھانے لے گئے۔
عظمیٰ بخاری کا دفاع کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ ان کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں، عظمیٰ کو جو معلومات دی گئیں انہوں نے آگے بیان کیں۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ بھاٹی چوک، مقدمہ میں نامزد افسر سمیت تین ملزمان گرفتار
مریم نواز کا کہنا تھا کہ جو اسسٹنٹ کمشنر تعمیراتی جگہ کا دورہ ہی نہیں کرے وہ کس بات کا اسسٹنٹ کمشنر ہے، تعمیراتی کام کے دوران انتہائی غفلت کا مظاہرہ کیا گیا، ہر اجلاس میں واضح ہدایات دی جاتی ہیں کہ کوئی مین ہول کھلا نہ رہے، انتہائی مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا گیا، اداروں کی غفلت اور نااہلی سے 2 قیمتی جانیں ضائع ہوگئیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے آئی جی پولیس کو ہدایت کی کہ پراجیکٹ انچارج سمیت چھ افسران کو گرفتار کیا جائے،مریم نواز نے عثمان یاسین،سیفٹی انچارج دانیال،پراجیکٹ منیجر احمد نواز اور اصغر سندھو گرفتار کرنے کا حکم دیا ۔
لاہور کی بات ہو رہی ہے، راجن پور یا لیہ بھکر کی نہیں۔ سیف سٹی کے کیمرے سے یہ دیکھنے میں کتنا وقت لگتا، یہ اہم ہے۔ میں نے رات کو اسی وقت سیف سٹی کے ہیڈ احسن کو کال کی، احسن نے فوراً کہا کہ وہ خود جائے گا اور دیکھا۔ احسن کو پہلے پتہ نہیں تھا، میری کال سے ہی معلوم ہوا کہ وہاں پر… pic.twitter.com/ZAZ4a3TNeU
— PMLN (@pmln_org) January 29, 2026
مریم نواز نے پراجیکٹ ڈائریکٹر ٹیپا زاہدحسین اور واسا کے عثمان بابر کو نوکری سے برخاست کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ دونوں کو کوئی نوکری نہیں ملنی چاہیے،انہیں گرفتاربھی کیا جائے، متاثرہ فیملی کو کنٹریکٹر سے ایک کروڑ روپے دلوائیں گے۔