سندھ کے گورنر کامران خان ٹیسوری نے اعلان کیا کہ گل پلازہ سانحے سے متاثرہ خاندانوں کو مفت رہائشی پلاٹس فراہم کیے جائیں گے اور اسے کراچی میں طویل عرصے سے جاری نظراندازی کے شکار متاثرین کے لیے انصاف کی جانب ایک قدم قرار دیا۔
انہوں نے یہ اعلان گورنر ہاؤس میں متاثرہ خاندانوں کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر نے کراچی سے جمع ہونے والے ٹیکس کی بدانتظامی پر شدید تنقید کی اور کہا کہ شہر ملک کو بھاری ریونیو دیتا ہے مگر بدلے میں اسے کچھ نہیں ملتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ادارے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں جس کے باعث شہری بار بار سانحات کا شکار ہو رہے ہیں، گورنر نے زور دیا کہ کراچی کو اپنے فیصلے خود کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر وزیرِ اعظم اور وزیرِ اعلیٰ اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر سکتے تو انہیں پیچھے ہٹ جانا چاہیے، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر وفاقی اور صوبائی حکومتیں ناکام ہوئیں تو گورنر ہاؤس ذمہ داری سنبھالے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ملاقات، اہم مسائل پر گفتگو
گل پلازہ کے المناک واقعے کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کے پاس اپنے پیاروں کی راکھ کے سوا کچھ نہیں بچا جو انتظامی ناکامی کا دردناک ثبوت ہے، انہوں نے کہا کہ انسانی جانوں کی قیمت لگانا بے معنی ہو چکا ہے مگر مؤثر حفاظتی اقدامات اب بھی نظرانداز کیے جا رہے ہیں۔
مالی ناانصافی کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ کراچی سے جمع ہونے والے ٹیکس کا پانچ فیصد سے بھی کم حصہ شہر پر خرچ کیا جاتا ہے، انہوں نے فوری ریلیف کا مطالبہ کیا اور یو سی ناظمین، ٹاؤن ناظمین، میئر کراچی اور متعلقہ سرکاری محکموں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔
گورنر نے کہا کہ وہ ایسے بلڈرز سے رابطے میں ہیں جو متاثرہ خاندانوں کو مفت پلاٹس فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انصاف ہونا چاہیے اور شہریوں کو غفلت کے خلاف آواز اٹھانے کا پورا حق حاصل ہے۔