آزاد کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چودھری کی نمازِ جنازہ قائداعظم اسٹیڈیم میرپور میں ادا کر دی گئی، نمازِ جنازہ میں کمانڈر راولپنڈی کور سمیت آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت، سرکاری حکام اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مرحوم کے جسدِ خاکی کو پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ اسٹیڈیم لایا گیا، جہاں پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی اور بعدازاں انہیں سپردخاک کر دیا گیا۔
بیرسٹر سلطان محمود چودھری کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ سلطان محمود چودھری کی سیاسی و قومی جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی، قوم ایک مدبر، نڈر اور مخلص رہنما سے محروم ہو گئی۔
یاد رہے کہ بیرسٹر سلطان محمود چودھری طویل علالت کے بعد گزشتہ روز 71 برس کی عمر میں اسلام آباد کے نجی ہسپتال میں انتقال کر گئے تھے، مرحوم آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم بھی رہ چکے تھے اور تحریکِ آزادی کشمیر کی ایک توانا اور مؤثر آواز کے طور پر جانے جاتے تھے۔
گن کیرج، ریاستی علامت اور بیرسٹر سلطان محمود چودھری: ایک عہد کی رخصتی
ریاستیں اپنے محسنوں کو صرف لفظوں میں یاد نہیں رکھتیں، وہ علامتوں، رسومات اور تاریخ کے رسمی اشاروں کے ذریعے ان کے مقام کا تعین کرتی ہیں۔
جب کسی شخصیت کا تابوت گن کیرج پر رکھا جاتا ہے تو یہ محض ایک جنازے کی نقل و حرکت نہیں ہوتی بلکہ یہ ریاست کا وہ خاموش مگر طاقتور اعلان ہوتا ہے جو آنے والی نسلوں کو بتاتا ہے کہ یہ فرد عام شہری نہیں تھا بلکہ قومی شعور کا حصہ تھا، بیرسٹر سلطان محمود چودھری کی آخری رسومات کا گن کیرج کے ساتھ ادا کیا جانا اسی ریاستی اعلان کی ایک واضح مثال ہے۔
پاکستان کی 78 سالہ تاریخ میں گن کیرج کا اعزاز چند ہی شخصیات کو نصیب ہوا ہے، قائدِ اعظم محمد علی جناح، جنرل محمد ضیاء الحق، عبد الستار ایدھی اور محترمہ رتھ فاؤ، یہ وہ نام ہیں جو ریاستی، سماجی اور اخلاقی خدمات کے استعارے بن چکے ہیں۔
بیرسٹر سلطان محمود چودھری کا اس فہرست میں شامل ہونا محض ایک رسمی فیصلہ نہیں بلکہ اس بات کا اعتراف ہے کہ ان کی جدوجہد، فکر اور وابستگی کو ریاست نے قومی سطح پر تسلیم کیا۔
گن کیرج دراصل فوجی روایت سے کہیں بڑھ کر ایک ریاستی علامت ہے، توپ والی فوجی گاڑی، قومی سلامی، منظم فوجی دستہ اور مکمل پروٹوکول اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ متوفی کی خدمات کو معمول کے پیمانوں سے نہیں ناپا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: صدر آزاد کشمیر بیر سٹرسلطان محمود انتقال کر گئے
یہ اعزاز ان افراد کو دیا جاتا ہے جنہوں نے ریاست کے تشخص، نظریے یا اخلاقی قدروں کو نئی جہت دی ہو، بیرسٹر سلطان محمود چودھری کا شمار انہی افراد میں ہوتا ہے جنہوں نے مسئلہ کشمیر کو محض ایک سیاسی نعرے کے طور پر نہیں بلکہ ایک مسلسل قومی ذمہ داری کے طور پر نبھایا۔
بیرسٹر سلطان محمود چودھری کی سیاست شخصیت پرستی سے زیادہ مؤقف پرستی کی سیاست تھی، وہ منصب کے محتاج نہیں تھے بلکہ منصب ان کے مؤقف کا محتاج رہا، کشمیر ان کے لیے انتخابی موضوع یا وقتی بیانیہ نہیں تھا بلکہ ایک مستقل فکری وابستگی تھی جس پر وہ اختلافات، تنقید اور سیاسی تنہائی کے باوجود قائم رہے، یہی استقامت کسی بھی سیاسی کردار کو تاریخ میں جگہ دیتی ہے۔
دیکھا جائے تو ان کی آخری سواری ایک علامتی سفر ہے، ایک ایسا سفر جو فرد سے نکل کر قوم تک جاتا ہے، گن کیرج گویا اس جدوجہد کی تکمیل کا اعلان ہے جو کشمیری شناخت، حقِ خودارادیت اور قومی وقار کے گرد گھومتی رہی، یہ رخصتی ذاتی نہیں، اجتماعی ہے، یہ غم فرد کا نہیں، تاریخ کا ہے۔
یہ لمحہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم ریاستی اعزازات کو محض جذباتی فیصلوں کے بجائے قومی بیانیے کی تشکیل کے تناظر میں دیکھیں، بیرسٹر سلطان محمود چودھری کو دیا گیا یہ اعزاز اس امر کی مہرِ تصدیق ہے کہ ریاست نے انہیں ایک قومی ہیرو اور قومی اثاثہ تسلیم کیا۔
اس کو بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا بانی کے طبی معائنے کیلئے عدالت سے رجوع
یہ فیصلہ آنے والے محققین اور مورخین کے لیے ایک واضح حوالہ بنے گا کہ کشمیر کے مقدمے میں ان کا کردار محض سیاسی نہیں بلکہ تاریخی تھا۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ جب آج گن کیرج کے پہیے آگے بڑھے تو انہوں نے صرف ایک شخص کو نہیں بلکہ ایک عہد کو رخصت کیا ، یہ پہیے تاریخ کے صفحے پر وہ سطر لکھ گئے ہیں جسے مٹایا نہیں جا سکتا۔
بیرسٹر سلطان محمود چودھری کی زندگی اور ان کی آخری رسومات اس بات کی گواہی ہیں کہ قومیں اپنے سچے ترجمانوں کو کبھی فراموش نہیں کرتیں وہ انہیں تاریخ کی علامت بنا دیتی ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔