سانحہ گل پلازہ کی تحقیقاتی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات
سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے حوالے سے تیار کر دہ رپورٹ میں چونکا دینے انکشافات سامنے آگئے۔
فائل فوٹو
کراچی: (سنو نیوز) سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے حوالے سے تیار کر دہ رپورٹ میں چونکا دینے انکشافات سامنے آگئے۔

رپورٹ کے مطابق سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے مطابق آگ کا آغاز دکان نمبر 193 گراؤنڈ فلور میں ماچس سے ہوا، دکان میں کمسن بچے کے ہاتھ سے ماچس جلنے کے باعث آگ بھڑکی، آتشزدگی کا واقعہ نیو توکل فلاور اینڈ گفٹ شاپ میں پیش آیا، آتشزدگی کے وقت دکان کا مالک موجود نہیں تھا۔

تحقیقات کے مطابق انتہائی آتش گیر سامان کے باعث آگ تیزی سے پھیلی ، گل پلازہ میں فائر الارم، اسپرنکلر اور فائر سپریشن سسٹم موجود نہیں تھا، بجلی بند ہونے میں تاخیر سے آگ نے شدت اختیار کی، پانی کی فراہمی میں تاخیر کے باعث ابتدائی فائر فائٹنگ ناکام رہی۔

رپورٹ کے مطابق عمارت میں ایمرجنسی اخراج کے راستے ناکافی اور بند تھے، سیڑھیوں اور راستوں میں دھواں بھرنے سے پلازہ میں موجود افراد پھنس گئے، میزنائن فلور سب سے زیادہ متاثر ہوا، عمارت کا ڈیزائن فائر سیفٹی اصولوں کے خلاف تھا۔

تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ فائر بریگیڈ کو شدید آگ سے نمٹنے کے لیے مناسب آلات میسر نہ تھے، رپورٹ میں پولیس کی کراؤڈ کنٹرول اور ریسکیو میں کمزوری کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گل پلازہ سے مزید 30 لاشیں برآمد، جاں بحق افراد کی تعداد 61 ہو گئی

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق فائر سیفٹی آڈٹس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا، شاپس کی تعداد منظور شدہ نقشے سے کہیں زیادہ تھی، عمارت انتظامیہ کی غفلت سانحے کی بڑی وجہ بنی۔

دوسری جانب المناک واقعے کی تحقیقات کے لئے وزیر اعلیٰ سندھ کی سربراہی میں قائم ذیلی کمیٹی نے بڑے فیصلے کر لیے۔

سنو نیوز کو موصول ہونے والے میٹنگ منٹس کے مطابق غفلت کے مرتکب ڈائریکٹر اور ایڈیشنل کنٹرولر سول ڈیفنس کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا جبکہ واٹر کارپوریشن کے چیف انجینئر بلک اور انچارج ہائیڈرنٹس کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔

بلدیاتی خدمات کے سینئر ڈائریکٹر کے ایم سی کو بھی معطل کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں جبکہ گل پلازہ کی تعمیر میں منظور شدہ پلان کی خلاف ورزی سے متعلق پولیس تحقیقات کرے گی۔

اجلاس میں 1979 سے 2015 تک بلڈنگ اپروولز اور لیز میں بے ضابطگیوں کی اینٹی کرپشن سے تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ گل پلازہ واقعے پر جوڈیشل انکوائری کے لیے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو خط لکھنے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔

سندھ حکومت نے عدالت عالیہ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں سانحہ گل پلازہ کی انکوائری کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔