سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے کا دعویٰ ہے کہ وہ 900 دن سے زائد عرصے سے حراست میں ہیں اور دوران حراست نہ تو ان سے ملاقات کی اجازت دی گئی اور نہ ہی وہ اپنے ذاتی معالجین سے رجوع کر سکے ہیں، اہلخانہ کے مطابق انہیں مرکزی ریٹینل وین رکاوٹ کی تشخیص ہوئی ہے جو علاج نہ ہونے کی صورت میں مستقل بینائی ضائع کر سکتی ہے۔
عمران خان کی بیٹی نے کہا کہ حکام انکے والد کو قابل اعتماد ڈاکٹرز سے ملاقات کی اجازت نہیں دے رہے اور انہیں اپنے والد سے بات کرنے کا حق بھی نہیں ملا، انہوں نے اس صورت حال کو آمرانہ ظلم قرار دیا اور جاری پابندیوں کو بنیادی انسانی حقوق کے خلاف قرار دیا ہے۔
عمران خان کے بیٹے قاسم خان کا ٹویٹ https://t.co/ruj16BuEl5
— Ahmad Hassan Bobak (@ahmad__bobak) January 29, 2026
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے عمران خان تک رسائی نہ دی تو سخت لائحہ عمل دیں گے:کے پی حکومت
اہلخانہ نے بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں اور عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ بروقت مداخلت کریں تاکہ غیر معکوس نقصان سے بچا جا سکے۔
انسانی حقوق کے اداروں اور قانونی ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام قیدیوں کو خصوصا سنگین طبی حالات میں مبتلا افراد کو فوری اور مناسب طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ پاکستان کی قومی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی زمہ داری پوری ہوں۔