شفیع جان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق سنگین خدشات کے باوجود ان کے ذاتی معالج تک رسائی دانستہ طور پر روکی جا رہی ہے جو کھلی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کو ہسپتال منتقل تو کیا گیا مگر ان کے اہلِ خانہ اور وکلاء کو جان بوجھ کر لاعلم رکھا گیا جو کہ مجرمانہ غفلت کے مترادف ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے خبردار کیا کہ اگر جعلی وفاقی حکومت نے فوری طور پر عمران خان کے ذاتی معالج کو رسائی نہ دی گئی تو پارٹی سخت لائحہ عمل اختیار کرے گی، ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت آئین، قانون اور عدالتی احکامات کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہفتے کی رات عمران خان کو اڈیالہ جیل سے پمز لایا گیا، عطا تارڑ کی تصدیق
شفیع جان نے مزید کہا کہ ملک کے سابق وزیر اعظم اور مقبول قومی رہنما کے معاملے پر وفاقی حکومت کی بے حسی اور سیاسی انتقام ناقابلِ مذمت ہے، ان کے مطابق پمز ہسپتال میں طبی معائنے سے متعلق عطا تارڑ کا بیان وفاقی حکومت کے خلاف چارج شیٹ ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی آج بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل جائیں گے جبکہ دیگر پارٹی رہنما بھی ان کے ہمراہ ہوں گے، شفیع جان نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو بھی فوری طور پر عمران خان تک رسائی دی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات پر غیر قانونی پابندی عائد ہے اور پنجاب حکومت عدالتی احکامات کو بھی نظر انداز کر رہی ہے، انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان سے ملاقات پر پابندی آئین، عدالتی احکامات، جمہوری اقدار اور بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔