گل پلازہ کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی
Karachi Gul Plaza fire investigation
فائل فوٹو
کراچی:(ویب ڈیسک) کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی کی مشترکہ کمیٹی نے سانحہ گل پلازہ کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ مکمل کر لی ہے۔

کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی کی مشترکہ کمیٹی نے سانحہ گل پلازہ کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ مکمل کر لی ہے اور رپورٹ کراچی کے کمشنر وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو پیش کریں گے۔

ذرائع کے مطابق رپورٹ میں گراؤنڈ فلور پر موجود بچے کے ہاتھوں فلاور شاپ میں آگ لگنے کا ذکر ہے جو تیزی سے ائیر کنڈیشن کے ڈکٹس کے ذریعے پھیلی، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سانحے میں 79 افراد جان کی بازی ہار گئے جن میں زیادہ تر اموات میزنائن فلور پر ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں: رمضان سے پہلے بجلی مزید مہنگی ہونے کا خدشہ

رپورٹ کے مطابق آگ رات 10 بج کر 15 منٹ پر لگی جبکہ فائر بریگیڈ کو اطلاع 10 بج کر 26 منٹ پر ملی تھی، ڈپٹی کمشنر جنوبی ساڑھے دس بجے پہنچے، پہلا فائر ٹینڈر 10:37 پر اور ریسکیو 1122 کا عملہ 10:53 پر موقع پر پہنچا۔

دوسری جانب سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کمشنر کراچی کی تحقیقات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دوبارہ جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا، انہوں نے کہا کہ جس افسر کو جوابدہ ہونا چاہیے وہی انکوائری کر رہا ہے اس لیے عوام کو شفاف تحقیق کے لیے جوڈیشل انکوائری کی ضرورت ہے۔