شوکت خانم ہسپتال کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ رات سے متعدد خبریں گردش میں ہیں جن میں بتایا جا رہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان آنکھوں کی ایک سنگین بیماری سنٹرل ریٹینل وین اوکلوژن میں مبتلا ہیں، اس کی وجوہات صحت کےکئی دیگر مسائل سے منسلک ہو سکتی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اگرچہ ہمارے لیے اس خبر کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنا ناممکن ہے تاہم اس وقت ہمیں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کے بارے میں شدید تشویش لاحق ہے۔
شوکت خانم ہسپتال انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اگرچہ ہمیں ان معالجین کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور مہارت پر مکمل اعتماد ہے جو اس وقت عمران خان کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس کے باوجود ہم درخواست کرتے ہیں کہ شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کو فوری طور پر بانی پی ٹی آئی تک رسائی دی جائے اور ان کے علاج میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے تاکہ ان تمام لوگوں کو مطمئن کیا جا سکے جو ان کی صحت کے بارے میں تشویش رکھتے ہیں۔

خیال رہے کہ سیکرٹری اطلاعات پاکستان تحریک انصاف شیخ وقاص اکرم نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ باوثوق صحافتی ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کی دائیں آنکھ میں سنٹرل ریٹینل وین اوکلوژن کی تشخیص ہوئی ہے، جس کے باعث ان کی آنکھ کی وین میں خطرناک بلاکیج پیدا ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کے مطابق یہ ایک نہایت حساس اور سنگین طبی مسئلہ ہے، جس کا بروقت اور مناسب علاج نہ ہونے کی صورت میں مستقل بینائی متاثر ہونے کا شدید خدشہ موجود ہے، جیل انتظامیہ ضد پر اڑی ہوئی ہے علاج جیل کے اندر ہی کیا جائے جبکہ ڈاکٹر واضح طور پر کہہ چکے ہیں یہ علاج جیل میں ممکن نہیں اور اس کیلئے آپریشن تھیٹر اور خصوصی سہولیات درکار ہیں۔
شیخ وقاص اکرم کا کہنا تھا کہ عمران خان کو آخری مرتبہ اپنے ذاتی معالج تک رسائی اکتوبر 2024 میں دی گئی تھی اور اس کے بعد سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود ان کے ذاتی ڈاکٹر کو آج تک معائنے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یہ ایک بیگناہ قیدی اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بیرسٹر گوہر کا عمران خان سے ملاقات سے انکار
سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی نے کہا کہ عمران خان کے باقاعدہ میڈیکل چیک اپ سے متعلق ایک درخواست اگست 2025 سے عدالت میں زیر التوا ہے، جسے جان بوجھ کر نہیں سنا جا رہا، حکومت کی یہ روش اس بات کا ثبوت ہے حکومت سیاسی انتقام کی آگ میں ایک قیدی کی جان اور صحت سے کھیلنے پر تُلی ہوئی ہے۔
شیخ وقاص اکرم نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان سے ان کی فیملی اور رفقاء کی بنا کسی دیر فوری ملاقات کروائیں تاکہ عوام کو تسلی ہو اور عمران خان کو فوری طور پر شوکت خانم سپتال یا ان کی مرضی کے کسی بھی معتبر ہسپتال میں علاج کرانے کی اجازت دے، جہاں مکمل سہولیات کے ساتھ ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں ان کا علاج ممکن ہو سکے۔
مرکزی سیکرٹری اطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ اگر خدانخواستہ عمران خان کی بینائی کو کوئی مستقل نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری براہِ راست حکومت اور جیل انتظامیہ پہ عائد ہوگی جو عدالتی احکامات کے باوجود علاج میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔