ذرائع کے مطابق پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی جانب سے نیٹ میٹرنگ کنکشن کے حامل لاکھوں صارفین کے بنائے گئے یونٹس کو بل کا حصہ نہیں بنایا گیا، صارفین کے ایکسپورٹ کیے گئے یونٹس کی بجائے استعمال کیے گئے تمام یونٹس کا بل چارج کیا گیا۔
ایکسپورٹ یونٹس کو بجلی بلوں کا حصہ نہ بنانے سے موسم سرما میں سولر صارفین کو بھی بھاری بل بھجوا دیے گئے، سردی میں بھاری بھرکم بلز آنے پر سولر صارفین کی چیخیں نکل گئیں۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ ڈسکوز نے نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی کو لائن لاسز چھپانے کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، نیٹ میٹرنگ پالیسی تبدیل ہونے سے سولر صارفین کی مسلسل حوصلہ شکنی کی جارہی ہے، نئی پالیسی میں منظور شدہ سےاضافی بجلی پیداوار کو بل کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سولر صارفین کیلئے نیٹ میٹرنگ پالیسی میں بڑی تبدیلیاں
ذرائع کا اس حوالے سے مزید بتانا ہے کہ ڈسکوز نے گزشتہ دو ماہ سے نیٹ میٹرنگ کنکشنز اور نئے معاہدے روک رکھے ہیں، ہزاروں صارفین کے معاہدے ہونے اور ڈیمانڈ نوٹسز ادا کرنے کے باوجود انہیں نیٹ میٹرز نہیں دیے جارہے۔
ذرائع کے مطابق رواں ماہ سولر صارفین کے ایکسپورٹ یونٹس بل میں شامل ہی نہیں کئے گئے۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس کے اختتام پر وفاقی حکومت کی جانب سے ملک بھر میں تمام سولر صارفین کیلئے نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلیاں کی گئی تھیں جسے نیپرا سولر صارفین قوانین 2025 کا نام دیا گیا تھا۔