مرکزی سیکرٹری اطلاعات پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) شیخ وقاص اکرم نے اپنے بیان میں کہا کہ باوثوق صحافتی ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کی دائیں آنکھ میں CRVO (Central Retinal Vein Occlusion) کی تشخیص ہوئی ہے، جس کے باعث ان کی آنکھ کی وین میں خطرناک بلاکیج پیدا ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کے مطابق یہ ایک نہایت حساس اور سنگین طبی مسئلہ ہے، جس کا بروقت اور مناسب علاج نہ ہونے کی صورت میں مستقل بینائی متاثر ہونے کا شدید خدشہ موجود ہے، جیل انتظامیہ ضد پر اڑی ہوئی ہے علاج جیل کے اندر ہی کیا جائے، جبکہ معالج ڈاکٹر واضح طور پر کہہ چکے ہیں یہ علاج جیل میں ممکن نہیں اور اس کے لیے آپریشن تھیٹر اور خصوصی سہولیات درکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کا وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم کو خط
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو آخری مرتبہ اپنے ذاتی معالج تک رسائی اکتوبر 2024 میں دی گئی تھی، اور اس کے بعد سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود ان کے ذاتی ڈاکٹر کو آج تک معائنہ کی اجازت نہیں دی جا رہی، یہ ایک بیگناہ قیدی اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، عمران خان کے باقاعدہ میڈیکل چیک اپ سے متعلق ایک درخواست اگست 2025 سے عدالت میں زیر التوا ہے، جسے جان بوجھ کر نہیں سنا جا رہا، حکومت کی یہ روش اس بات کا ثبوت ہے حکومت سیاسی انتقام کی آگ میں ایک قیدی کی جان اور صحت سے کھیلنے پر تُلی ہوئی ہے۔
شیخ وقاص اکرم نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان سے ان کی فیملی اور رفقاء کی بنا کسی دیر فوری ملاقات کروائیں تاکہ عوام کو تسلی ہو اور عمران خان کو فوری طور پر شوکت خانم سپتال یا ان کی مرضی کے کسی بھی معتبر ہسپتال میں علاج کرانے کی اجازت دے، جہاں مکمل سہولیات کے ساتھ ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں ان کا علاج ممکن ہو، ہم عدلیہ سے بھی پُرزور اپیل کرتے ہیں یہ معاملہ سیاست کا نہیں بلکہ صحت کا ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی کوتاہی ناقابلِ قبول ہوگی۔
مرکزی سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ اگر خدانخواستہ عمران خان کی بینائی کو کوئی مستقل نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری براہِ راست حکومت اور جیل انتظامیہ پہ عائد ہوگی جو عدالتی احکامات کے باوجود علاج میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔