بسنت 2026: موٹر سائیکل سواروں کیلئے بڑ اعلان
حکومت پنجاب
حکومت پنجاب نے بسنت کی 3 روزہ تقریبات کیلئے سیفٹی پلان کی منظوری دی/ فائل فوٹو
لاہور: (ویب ڈیسک) حکومت پنجاب نے بسنت کی 3 روزہ تقریبات کیلئے سیفٹی پلان کی منظوری دیتے ہوئے شہریوں کو سخت وارننگ جاری کر دی۔

تفصیلات کے مطابق بسنت 2026 کے حوالے سے لاہور پولیس نے تیاریاں کرلیں، ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے شہریوں کو خبردار کیا کہ تین روزہ بسنت سے پہلے یا بعد میں پتنگ بازی کرنے والوں کیخلاف سخت ایکشن لیا جائے گا، اس دوران فائرنگ کرنے والوں کو کسی صورت نہیں بخشا جائے گا، تین دن موٹر سائیکل سواروں کیلئے بھی خصوصی پلان تیار کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت نے تین روزہ بسنت میلے کے دوران شہریوں کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کرنے کے لیے جامع سکیورٹی پلان کا اعلان کیا۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے بتایا کہ حکومت نے پولیس کو 6، 7 اور 8 فروری کو ہونے والی بسنت کی تقریبات کے دوران عوامی تحفظ یقینی بنانے کے لیے سخت ہدایات جاری کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آٹھویں جماعت کے امتحانات ملتوی

ان ہدایات پر عمل کرتے ہوئے حکام نے موٹر سائیکل سواروں میں 10 لاکھ حفاظتی تاریں تقسیم کی ہیں، جو موٹر سائیکلوں کے اگلے حصے پر لگائی جائیں گی تاکہ ڈور پھرنے کے خطرات سے بچاؤ ممکن بنایا جا سکے۔ پنجاب پولیس نے تین روزہ بسنت کے دوران شہریوں کی سہولت کے لیے 6 ہزار خصوصی رکشے، 500 بسیں اور 60 ہزار آن لائن کار سروسز فراہم کرنے کا انتظام بھی کیا ہے۔

اس سے قبل حکومت نے آمد و رفت میں آسانی اور شہریوں کی حفاظت کو مزید بہتر بنانے کے لیے اعلان کیا تھا کہ بسنت کے تینوں دن تمام پبلک ٹرانسپورٹ مفت ہوگی، جس میں ایپ بیسڈ ٹیکسی سروسز اور سرکاری ٹرانسپورٹ بھی شامل ہیں۔

محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبے میں پتنگ بازی پر پابندی بدستور برقرار ہے، جو پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ بل 2025 کے تحت نافذ ہے۔ تاہم روایتی بسنت میلے کے انعقاد کے لیے 6 سے 8 فروری تک تین دن کی محدود اجازت دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی نے 24 دسمبر کو اکثریتی ووٹ سے یہ قانون منظور کیا تھا، جس کا مقصد انسانی جان اور املاک کا تحفظ ہے۔ اس قانون کے تحت پنجاب پروہیبیشن آف کائٹ فلائنگ آرڈیننس 2001 کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں پانچ سال تک قید، 20 لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ جبکہ قانون کے تحت پتنگ اور ڈور کے استعمال، تیاری، ذخیرہ اندوزی اور فروخت پر 7سال تک قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔