پختونخوا اسمبلی: غزہ بورڈ میں شمولیت کیخلاف قرارداد منظور
خیبرپختونخوا اسمبلی
صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم آفریدی نے یہ قرارداد پیش کی جس میں پاکستان کی اس بورڈ میں شمولیت کو مسترد کیا گیا/ فائل فوٹو
پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک): خیبرپختونخوا اسمبلی میں پاکستان کے "بورڈ آف پیس" میں شمولیت کے خلاف ایک قرارداد منظور کی گئی۔

صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم آفریدی نے یہ قرارداد پیش کی جس میں پاکستان کی اس بورڈ میں شمولیت کو مسترد کیا گیا۔ قرارداد کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کے بنائے گئے 'بورڈ آف پیس' میں پاکستان کا حصہ بننا اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرارداد کے خلاف ہے، جس میں فلسطینی عوام کی خودمختاری کی حمایت کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کا وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم کو خط

قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ اس بورڈ میں غزہ کی قیادت کو نظرانداز کیا گیا ہے اور فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی بجائے اسرائیل کے عزائم کو تقویت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس میں واضح طور پر کہا گیا کہ فلسطین اور غزہ کے لوگوں کی جدوجہد کو نظرانداز کرنا اور اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی کوششیں ایک سازش ہیں جو فلسطینی عوام کے حقوق کے خلاف ہیں۔

اس قرارداد میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فلسطین اور غزہ کی خودمختاری کی حمایت کو جاری رکھے اور اسرائیل کے مظالم کے خلاف مضبوط اور اصولی موقف اپنائے۔ قرارداد نے حکومت پاکستان سے یہ درخواست بھی کی کہ وہ عالمی سطح پر فلسطینی عوام کے حقوق کی حفاظت کے لیے آواز اٹھائے اور اس معاملے میں کسی بھی قسم کے دباؤ کو نظرانداز کرے۔

اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، سہیل آفریدی نے کہا کہ بند کمروں میں کیے جانے والے فیصلوں سے عوام میں بے چینی پھیل گئی ہے اور وہ ایسے فیصلوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں جو عوام کے مفاد میں نہ ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے سہولتیں فراہم کرنا ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور صوبے کی فلاح و بہبود کے لیے وہ کسی بھی طرف سے تعاون کرنے کو تیار ہیں۔