یہ حکم وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان پر مشتمل بینچ نے جاری کیا۔ عدالت نے یہ فیصلہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر سماعت کے بعد سنایا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ این اے 4 سوات سے منتخب رکن قومی اسمبلی سہیل سلطان کے خلاف دائر ریفرنس میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور الیکشن کمیشن کو حتمی فیصلے سے روکا جائے۔
عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد سہیل سلطان کے خلاف دائر ریفرنس پر حکمِ امتناع جاری کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو واضح ہدایت دی کہ وہ کیس کا فیصلہ نہ کرے، جب تک عدالت اس معاملے پر مزید سماعت مکمل نہ کر لے۔
یہ بھی پڑھیں: دس سیاسی جماعتوں سے وابستہ برادریاں ن لیگ میں شامل
یاد رہے کہ سہیل سلطان کے خلاف ریفرنس اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے الیکشن کمیشن کو ارسال کیا گیا تھا، جس میں ان کی نااہلی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ریفرنس میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ متعلقہ رکن نے بعض آئینی اور قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے، جس پر الیکشن کمیشن کو کارروائی کرنی چاہیے۔
پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے اس ریفرنس کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور اس کے اتحادی اداروں کو سیاسی مخالفین کو دبانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق سہیل سلطان ایک عوامی نمائندہ ہیں اور ان کے خلاف کارروائی دراصل عوامی مینڈیٹ پر حملہ ہے۔
واضح رہے کہ اس فیصلے کے بعد سہیل سلطان بدستور رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے، جبکہ کیس کی آئندہ سماعت کی تاریخ بعد میں مقرر کی جائے گی۔