سینئر صحافی مطیع اللہ جان سے گفتگو کرتے ہوئے ایمان مزاری کی ساس کا کہنا تھا کہ ایمان کو کھانے پینے کو کچھ نہیں دیا جا رہا، ایمان کو جس طرح اٹھا کر گاڑی میں پھینکا گیا یہ دو انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے، ایمان اور ان کے شوہر کے ساتھ پولیس کا رویہ ظالمانہ ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایمان اور ان کے شوہر نے ایسا کیا جرم کر دیا کہ ان کی اگلی نسل کو بھی خطرے میں ڈالا جارہا ہے۔
یاد رہے کہ دو روز قبل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو اسلام آباد پولیس نے سرینا چوک سے گرفتار کر لیا تھا، ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی چٹھہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے ڈسٹرکٹ کورٹ جا رہے تھے کہ راستے سے گرفتار کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانتیں منسوخ
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کے جج طاہر عباس سپرا نے دونوں ملزمان کی قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواستیں خارج کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ عدالت نے متنازع ٹویٹ کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
خیال رہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی پر پی ٹی ایم، ودیگر کالعدم تنظیموں کا ایجنڈا پھیلانے کا الزام تھا، ملزمان پر ریاستی اداروں کیخلاف مواد کی تشہیر کا بھی الزام تھا۔