نادرا کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ جدید ایپ ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی گئی ہے تاکہ شہریوں کو اپنے شناختی ڈیٹا پر مکمل اعتماد اور کنٹرول فراہم کیا جا سکے۔ اس ایپ کے ذریعے شہری پہلی مرتبہ اپنے قومی شناختی کارڈ سے منسلک ڈیٹا کے استعمال پر خود نگرانی کر سکیں گے اور یہ جان سکیں گے کہ ان کا ذاتی ڈیٹا کہاں، کب اور کس مقصد کے لیے استعمال کیا گیا۔
ایپ میں ڈیٹا ویری فکیشن کی مکمل تاریخ دستیاب ہوگی، جس میں واضح طور پر درج ہوگا کہ کس سرکاری یا نجی ادارے نے شہری کے شناختی ڈیٹا کی تصدیق کی، یہ تصدیق کس تاریخ اور وقت پر ہوئی اور اس کی نوعیت کیا تھی۔ اس شفاف نظام کے ذریعے شہری کسی بھی مشکوک یا غیر مجاز تصدیق کی نشاندہی کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب کا بسنت کے ایام مفت سفری سہولیات کا اعلان
حکام کا کہنا ہے کہ ماضی میں شناختی ڈیٹا کے غلط استعمال، غیر قانونی تصدیق اور ڈیٹا لیک جیسے واقعات سامنے آتے رہے ہیں، جن سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ نئی ڈیٹا مانیٹرنگ ایپ کے اجرا سے ایک مؤثر چیک اینڈ بیلنس سسٹم قائم ہوگا، جو ایسے تمام اقدامات کی بروقت نشاندہی اور روک تھام میں مدد دے گا۔ اس سے نہ صرف عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا بلکہ اداروں کو بھی ذمہ داری کے دائرے میں لایا جا سکے گا۔
نادرا کے مطابق اس ایپ کے ذریعے پرائیویسی اور ڈیٹا سیکیورٹی کے معیار کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔ جدید سائبر سیکیورٹی فیچرز کی مدد سے شہریوں کا ڈیٹا محفوظ رہے گا اور سائبر کرائم، جعلی تصدیقی کیسز اور شناختی فراڈ کی حوصلہ شکنی ممکن ہو سکے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ڈیجیٹل گورننس کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
نادرا حکام نے مزید بتایا کہ مستقبل میں اس ایپ میں مزید سہولیات شامل کی جائیں گی، جن میں شہریوں کو الرٹس، شکایت درج کرانے اور فوری رہنمائی جیسے فیچرز فراہم کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر یہ ایپ شناختی ڈیٹا کے تحفظ، شفافیت اور ذمہ دارانہ استعمال کے حوالے سے ایک سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔