رپورٹ کے مطابق بل کا اطلاق بیوی، بچوں، گھر کے بزرگ افراد، لے پالک اور ٹرانس جینڈر ایک ساتھ رہنے والوں پر ہو گا۔
بل میں بیوی، بچوں یا گھر میں رہنے والے دیگر افراد کو گالی دینا جرم قرار دیا گیا ہے، بیوی، بچے یا گھر میں موجوددیگر افراد کو جذباتی، نفسیاتی طور پر پریشان کرنا بھی جرم ہو گا، مرتکب افراد کو تین سال تک کی سزا اور ایک لاکھ روپے تک کا جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا جبکہ جرمانہ ادا نہ کرنے پر مزید 3 سال سزا ہو گی۔
ایوان سے منظور ہونے والے بل کے متن کے مطابق بیوی اور بچوں کے علاوہ گھر میں معذور افراد یا بزرگ افراد کا تعاقب کرنا بھی جرم ہو گا، بیوی کو مرضی کے بغیر گھر میں دیگر افراد کے ساتھ رکھنا بھی قابل سزا جرم ہو گا، بل میں خاندان کے افراد کی پرائیویسی یا عزت نفس مجروح کرنا بھی جرم قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی، پی ٹی آئی اراکین اسمبلی آپس میں لڑ پڑے
اسی طرح بیوی یا گھر میں رہنے والے دیگر افراد کو جسمانی تکلیف پہنچانے کی دھمکی بھی قابل سزا جرم ہو گا، گھر میں ایک ساتھ رہنے والے کسی بھی فریق پر الزام لگانے پر بھی سزا ہو گی، بیوی بچوں یا گھر میں رہنے والے دیگر فریق کا خیال نہ کرنا بھی قابل سزا جرم ہے۔
ڈومیسٹک وائلنس بل میں جنسی استحصال کیساتھ معاشی استحصال بھی شامل ہے، عدالت میں درخواست آنے کے 7 روز کے اندر سماعت ہو گی اور فیصلہ 90 روز میں ہو گا، متاثرہ شخص کو مشترکہ رہائش گاہ میں رہنے کا حق حاصل ہو گا یا جوابدہ رہائش کا بندوبست کرے گا یا شیلٹر ہوم مہیا کیا جائے گا۔
قانون میں تشدد کرنے والے شخص کو متاثرہ شخص سے دور رہنے کے احکامات بھی دئیے جائیں گے، تشدد کرنے والے شخص کو جی پی ایس ٹریکر پہننے کی ہدایت دی جائے گی۔
اس کو بھی پڑھیں: ایمان مزاری اور انکے شوہر ہادی چٹھہ اسلام آباد سے گرفتار
بل کے مطابق گھریلو تشدد سے مراد جسمانی، جذباتی، نفسیاتی، جنسی اور معاشی بدسلوکی ہے اور جس سے متاثرہ شخص میں خوف پیدا ہو، یا جسمانی اور نفسیاتی نقصان ہو، بیوی کو طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی پر 3 سال تک قید ہو گی، گالی دینے، جذباتی یا نفسیاتی طور پر پریشان کرنا بھی جرم ہو گا، بیوی کو گھورنے پر بھی سزا ہو گی۔
بل میں ایسے جرائم کے مرتکب شخص کو کم سے کم 6ماہ اور زیادہ سے زیادہ 3 سال تک کی سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔