ذرائع کے مطابق واقعہ اُس وقت پیش آیا جب قومی اسمبلی کے باہر کسی معاملے پر دونوں اراکین کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ اقبال آفریدی نے خرم شہزاد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، آپ کا کیا کام تھا مجھے روکنے کا؟ اب بات اندر نہیں، باہر ہو گی۔ اس دوران ماحول کشیدہ ہو گیا اور دونوں جانب سے آوازیں بلند ہونے لگیں۔ تلخ کلامی اس حد تک بڑھ گئی کہ دیگر اراکینِ اسمبلی کو فوری طور پر بیچ بچاؤ کرانا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: ایمان مزاری اور انکے شوہر ہادی چٹھہ اسلام آباد سے گرفتار
عینی شاہدین کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے پر سخت الزامات عائد کیے اور نامناسب الفاظ بھی استعمال ہوئے۔ خرم شہزاد کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا، موقع پر موجود لوگوں نے صورتحال کو قابو میں لانے کی کوشش کی اور دونوں کو الگ الگ کر دیا۔
’’تم ٹائوٹ اور غنڈے ہو‘‘، تحریک انصاف کے ایم این ایز اقبال آفریدی اور خرم شہزاد پارلیمنٹ میں لڑ پڑے، دیگر ارکان بیچ بچائو کراتے رہے۔۔!! pic.twitter.com/du2yhht253
— Khurram Iqbal (@khurram143) January 23, 2026
واقعے کے کچھ دیر بعد پی ٹی آئی کے اندرونی حلقوں کی کوششوں سے دونوں رہنماؤں کے درمیان صلح ہو گئی۔ خرم شہزاد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اقبال آفریدی ان کے بڑے بھائی کی مانند ہیں اور جو تحفظات تھے وہ دور ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے اندر اختلافات ہو سکتے ہیں، مگر ہمارا مقصد ایک ہے اور ہم اصل سیاسی جدوجہد کے لیے متحد ہیں۔
صلح ہو گئی، اقبال میرا بڑا بھائی ہے، تحفظات دور ہو گئے، ہم اصل لڑائی کےلئے اکٹھے ہیں، خرم شہزاد https://t.co/kwM2KfA5vp pic.twitter.com/YP63LJDIWl
— Khurram Iqbal (@khurram143) January 23, 2026
خرم شہزاد نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کے اندر جذباتی ماحول میں بعض اوقات بات بڑھ جاتی ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ پارٹی میں کوئی دراڑ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف ایک مضبوط جماعت ہے اور ایسے واقعات پارٹی اتحاد کو کمزور نہیں کر سکتے۔