قومی اسمبلی: پی ٹی آئی اراکین اسمبلی آپس میں لڑ پڑے
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)
پی ٹی آئی کے دو اراکینِ قومی اسمبلی، اقبال آفریدی اور خرم شہزاد کے درمیان شدید تلخ کلامی ہاتھا پائی تک پہنچ گئی/ فائل فوٹو
اسلام آباد: (ویب ڈیسک) قومی اسمبلی کے باہر اُس وقت غیر معمولی صورتحال پیدا ہوگئی جب پاکستان تحریک انصاف کے دو اراکینِ قومی اسمبلی، اقبال آفریدی اور خرم شہزاد کے درمیان شدید تلخ کلامی ہاتھا پائی کے قریب پہنچ گئی۔

ذرائع کے مطابق واقعہ اُس وقت پیش آیا جب قومی اسمبلی کے باہر کسی معاملے پر دونوں اراکین کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ اقبال آفریدی نے خرم شہزاد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، آپ کا کیا کام تھا مجھے روکنے کا؟ اب بات اندر نہیں، باہر ہو گی۔ اس دوران ماحول کشیدہ ہو گیا اور دونوں جانب سے آوازیں بلند ہونے لگیں۔ تلخ کلامی اس حد تک بڑھ گئی کہ دیگر اراکینِ اسمبلی کو فوری طور پر بیچ بچاؤ کرانا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں: ایمان مزاری اور انکے شوہر ہادی چٹھہ اسلام آباد سے گرفتار

عینی شاہدین کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے پر سخت الزامات عائد کیے اور نامناسب الفاظ بھی استعمال ہوئے۔ خرم شہزاد کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا، موقع پر موجود لوگوں نے صورتحال کو قابو میں لانے کی کوشش کی اور دونوں کو الگ الگ کر دیا۔

واقعے کے کچھ دیر بعد پی ٹی آئی کے اندرونی حلقوں کی کوششوں سے دونوں رہنماؤں کے درمیان صلح ہو گئی۔ خرم شہزاد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اقبال آفریدی ان کے بڑے بھائی کی مانند ہیں اور جو تحفظات تھے وہ دور ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے اندر اختلافات ہو سکتے ہیں، مگر ہمارا مقصد ایک ہے اور ہم اصل سیاسی جدوجہد کے لیے متحد ہیں۔

خرم شہزاد نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کے اندر جذباتی ماحول میں بعض اوقات بات بڑھ جاتی ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ پارٹی میں کوئی دراڑ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف ایک مضبوط جماعت ہے اور ایسے واقعات پارٹی اتحاد کو کمزور نہیں کر سکتے۔