سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں احسن اقبال نے کہا کہ متعدد شہریوں نے ان سے اس مبینہ تجویز کے بارے میں سوالات کیے، جس پر وضاحت ضروری ہو گئی۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ووٹنگ کی عمر میں اضافے سے متعلق نہ کوئی منصوبہ زیرِ غور ہے اور نہ ہی حکومت ایسا کوئی اقدام کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ حکومت پاکستان کے نوجوانوں پر مکمل اعتماد رکھتی ہے اور ان کے آئینی حقِ رائے دہی کو محدود کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، نوجوان پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں اور وہ ملک کے مستقبل کے بارے میں باشعور اور ذمہ دار فیصلے کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کیلئے بلاسود قرضوں کی منظوری
انہوں نے الزام عائد کیا کہ اپوزیشن کی جانب سے جان بوجھ کر غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں تاکہ سیاسی مقاصد کے لیے بے جا تنازع کھڑا کیا جا سکے اور عوام کو گمراہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی جھوٹی خبروں کا مقصد نوجوانوں میں بے چینی پیدا کرنا اور حکومت کے خلاف منفی فضا بنانا ہے۔
Reports of increasing voters age from 18 years to 25 years are baseless. There is no such legislation under consideration. pic.twitter.com/IbXQSbFo77
— Ahsan Iqbal (@betterpakistan) January 22, 2026
احسن اقبال کے مطابق نہ کسی مشترکہ پارلیمانی اجلاس میں اور نہ ہی کسی اور فورم پر ووٹنگ کی عمر بڑھانے سے متعلق کوئی قانون سازی زیرِ غور ہے، حکومت نوجوانوں کو قومی ترقی کے عمل میں فعال شراکت دار سمجھتی ہے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران بعض میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پر یہ دعوے سامنے آئے تھے کہ حکومت ووٹ ڈالنے کی کم از کم عمر 25 سال کرنے پر غور کر رہی ہے، جس کے بعد سیاسی اور عوامی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی تھی۔ وفاقی وزیر کی وضاحت کے بعد ان خبروں کی تردید ہو گئی ہے۔