پارلیمنٹ ہاؤس میں ہندو خاتون ڈاکٹر کی تعیناتی، ریکارڈ میں نیا باب
Hindu woman doctor
فائل فوٹو
(ویب ڈیسک): وفاقی حکومت نے اندرون سندھ کی نوجوان ہندو ڈاکٹر کومل لالوانی کو پارلیمنٹ ہاؤس میں اراکین کی صحت کی دیکھ بھال کے لیے مقرر کر لیا ہے۔

وفاقی حکومت نے اندرون سندھ کی ہندو ڈاکٹر کومل لالوانی کو پارلیمنٹ ہاؤس میں تعینات کر دیا گیا ہے جہاں وہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین کی صحت کا خیال رکھیں گی۔

ڈاکٹر لالوانی نے اپنی طبی تعلیم سندھ کے ایک کالج سے مکمل کی اور انہوں نے یہ زمہ داری ڈاکٹر مینا مہک کے بعد سنبھالی جو حال ہی میں ترقی کے بعد کراچی کے ایک ہسپتال منتقل ہوگئی ہے۔

ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس کے ڈاکٹرز کا انتخاب وفاقی گورنمنٹ سروسز ہسپتال (ایف جی ایس ایچ) اسلام آباد سے پیشہ ورانہ قابلیت کے معیار پر کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جیولرز مارکیٹ سے 20 کلو سونا لیکر فرار ملزم گرفتار

پارلیمانی حلقوں میں اس تعیناتی کو سراہا جارہا ہے کیونکہ اس سے ملک کے اہم وفاقی ادارے میں اقلیت کی خاتون اور دیہی سندھ کی نمائندگی یقینی ہوئی ہے، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال خود بھی سندھ کے شہری علاقوں سے تعلق رکھنے ہیں اور صحت کے شعبے کی نگرانی کرتے ہیں۔

یہ تعیناتی ملک میں شمولیت اور پیشہ ورانہ معیار کے امتزاج کی ایک مثال کے طور پر دیکھی جارہی ہے جس سے نہ صرف اراکین اسمبلی کو معیاری طبی سہولیات میسر آئیں گی بلکہ اقلیتوں اور دیہی علاقوں کی نمائندگی بھی مضبوط ہوگی۔