ٹرمپ اور نیتن یاہو کی صورت میں کوئی امن بورڈ قبول نہیں: فضل الرحمان
سربراہ جمعیت علماء اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان
سربراہ جمعیت علماء اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کیا/ فائل فوٹو
اسلام آباد: (ویب ڈیسک) مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی اور نیتن یاہو کی موجودگی میں پاکستان کو غزہ امن بورڈ کا حصہ نہیں بننا چاہیے، اس بورڈ آف پیس میں فلسطین کے قصاب نیتن یاہو کو ممبر بنایا گیا ہے، ‏ٹرمپ اور نیتن یاہو کی صورت میں کسی قسم کا کوئی امن بورڈ قبول نہیں۔

 سربراہ جمعیت علماء اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی وہاں بمباریاں ہو رہی ہیں، اس مجلس میں نیتن یاہو اور شہباز شریف شانہ بشانہ بیٹھے ہونگے، ہماری پالیسیاں بین الاقوامی دباؤ کے تحت بنتی ہیں، کبھی ہم نے اپنی خارجہ پالیسی اپنے مفاد کی خاطر نہیں بنائی، 1948 میں جب اسرائیل وجود میں آیا تو اسے بانی پاکستان نے ناجائز قرار دیا، کچھ لمحوں کیلئے ہم نے سوچا ہے کہ بانی پاکستان کے فرمودات پر، عمل پیرا دور کی بات ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ‏یورپ بھی اس معاملے پر مخالفت کر رہا ہے مگر خدا جانے ہم کیا سوچ رہے ہیں، ‏کدھر ہے ہماری جمہوریت، ؟ پاکستان نہیں دنیا کے نظام میں تبدیلی آرہی ہے، ‏مغرب جمہوریت کی بات کرتا تھا مگر اس کے اندر جابر نظام چھپا تھا، ‏مشرق کمیونزم کی بات کرتا تھا اس کے اندر ایک آمریت چھپی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نےغزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی

انہوں نے کہا کہ ‏مشرقی دنیا کی ننگی آمریت اور مغربی دنیا کا ظالمانہ نظام کھل کر سامنے آگیا، ‏اب یہ دونوں عسکری قوت کیساتھ مل کر حکمرانی کرے گا، ‏حکومت جب چاہے حرام ترین ایشوز پر بھی قانون سازی کرے، کیا یہ جمہوریہ ہے، ‏آپ حلال کو حرام اور حرام کو حلال نہیں کرسکتے، ‏یہ نظام جمہور کے تحت جبر کے تحت چلایا جا رہا ہے، ‏یہ صرف جعلی نہیں جبری اکثریت تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ‏18 سال سے کم عمر شادی زناء کے مترادف، انااللہ واناالیہ راجعون، ‏معلوم نہیں یہ بل اور یہ قوانین کہاں کہاں سے آتے ہیں، ‏آپ اب طفل تسلیوں اور اچھے الفاظ سے ہمیں مطمئن نہیں کرسکتے، ‏ہمیں ان قانون سازیوں کو واپس لینا ہوگا، 27 ویں ترمیم میں جو استثنیٰ دی گئی ہیں وہ واپس کرنا ہوگا، ‏یہ اخلاقی طور پر، جمہوری طور پر اور شرعی طور پر بھی جائز نہیں۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ بہت ظلم کئے گئے ہیں مگر 8 فروری کو انتہا کردی گئی ۔ اب پھر 8 فروری آرہا ہے، ہم نے کئی سیاہ دن دیکھے ہیں مگر 8 فروری یوم سیاہ کے طور پر منائیں گے۔