ان کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی سیاسی و مذہبی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی فضا چھا گئی، جبکہ پارٹی کارکنوں اور چاہنے والوں کی جانب سے تعزیت کا سلسلہ جاری ہے۔
خاندانی ذرائع کے مطابق مولانا قاری محمد یوسف کچھ عرصے سے علیل تھے اور اسلام آباد کے پولی کلینک ہسپتال میں زیر علاج تھے، جہاں وہ زندگی کی بازی ہار گئے۔ مرحوم کی نماز جنازہ ان کے آبائی گاؤں بٹگرام میں ادا کی جائے گی، جس میں سیاسی، مذہبی اور سماجی شخصیات کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔
مولانا قاری محمد یوسف کا شمار جمعیت علمائے اسلام کے نظریاتی اور متحرک رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ وہ دو مرتبہ جے یو آئی کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور پارلیمان میں مذہبی، سماجی اور عوامی مسائل پر بھرپور آواز بلند کرتے رہے۔ ان کی پارلیمانی خدمات، دینی وابستگی اور سادہ طرزِ زندگی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی: گل پلازہ میں آتشزدگی، 5 افراد جانبحق، متعدد زخمی
مرحوم دینی علوم کے ماہر، خوش اخلاق اور عوام دوست شخصیت کے حامل تھے۔ وہ اپنے حلقے میں فلاحی سرگرمیوں اور عوامی رابطے کی وجہ سے خاص مقام رکھتے تھے۔ ان کے انتقال کو جمعیت علمائے اسلام کیلئے ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے مولانا قاری محمد یوسف کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان کی دینی و سیاسی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور مرحوم کے درجات کی بلندی اور لواحقین کیلئے صبر جمیل کی دعا کی۔