فواد چوہدری نے کہا کہ موجودہ حالات میں سیاسی استحکام ناگزیر ہو چکا ہے، اس کیلئے سنجیدہ مذاکرات کی ضرورت ہے۔
نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی درخواست کی ہے، تاہم تاحال اس کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا، سیاسی ڈیڈ لاک ختم کرنے کیلئے حکومت کو بات چیت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔
فواد چوہدری نے زور دیا کہ ملک میں سیاسی استحکام لانے کیلئے نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کو مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ کوٹ لکھپت جیل سے قیدیوں کی رہائی جیسے اقدامات سے مثبت پیغام جائے گا اور سیاسی ماحول میں بھی بہتری آئے گی۔
یہ بھی پڑھیں: مظاہرین نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی گاڑی روک لی
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ پارٹی کے اندر واضح سمت نظر نہیں آتی، آدھی قیادت انقلاب کی بات کرتی ہے جبکہ آدھی مذاکرات کی حامی ہے۔
انہوں نے مختلف رہنماؤں کے متضاد بیانات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ بیرسٹر گوہر کا مؤقف کچھ اور ہے، خیبر پختونخوا میں جونیئر وزیر کچھ اور کہتے ہیں۔ اسی طرح سلمان اکرم راجا افغانستان سے دہشت گردی کے حوالے سے بات کرتے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ان کے بیان سے اتفاق نہیں کرتے۔